امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 194 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 194

ریکارڈ پر بھی آ گیا۔مگر اختلافی رائے دنیا کی نظر سے اوجھل رہی۔اس فیصلے میں چیف جسٹس آفتاب حسین کا سرے سے ذکر ہی نہ ہونا اور پہلے سے جاری کردہ مختصر فیصلے کا ذکر بھی غائب کر دینا عدالتی روایات سے انحراف اور حیران کن تھا۔چنانچہ جنیوا سے انٹر نیشنل جیوریسٹس کمیشن پاکستان کے دورے پر آیا تو انہوں نے اس بات کا نوٹس لیا، اس پر حیرت کا اظہار کیا اور اپنی رپورٹ میں اس کا ذکر بھی کیا۔تفصیلی فیصلہ کا جائزہ لیا جائے تو اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔پہلا حصہ پہلے چار صفحات میں درخواست کے پس منظر، اس کے مندرجات اور اس سے متعلقہ اُمور کا مختصر ذکر کیا گیا۔فیصلے کے پیرا گراف 12 میں عدالت نے لکھا۔زیر نظر آرڈنینس کو پینچ کرنے کی جو بنیادی وجہ ان درخواستوں میں بیان کی گئی اور جس پر مختلف زاویوں سے بحث کی گئی تھی کہ آرڈنینس احمدیوں کے شرعی اور آئینی حقوق سے متصادم ہے۔پیرا گراف 13 میں لکھا: یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئینی ترمیم کے باوجود سائلان نے اپنی بحث کے دوران اپنے آپ کو مسلمان اور اپنے مذہب کو اسلام کہنے پر اصرار کیا۔اور یہ کہا کہ احمدیوں کو نان مسلم قرار دینے کی ترمیم ایک برسر اقتدار پارٹی کا فیصلہ تھا، کوئی مذہبی فیصلہ نہیں تھا۔پیرا 14 میں لکھا: مسٹر مجیب الرحمن نے یہ کہا کہ چونکہ عدالت آئین کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتی لہذاوہ یہ سوال اُٹھا نا پسند نہیں کریں گے کہ آیا قادیانی مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔تا ہم انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ قادیانی فی الواقع غیر مسلم نہیں بلکہ وقت کے اقتدار اعلیٰ نے انہیں ایسا قرار دیا ہے۔194