امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 14 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 14

کی نقل ہمیں مہیا کی جائے۔بحث کے دوران بعد میں ایک مرحلہ پر اس رپورٹ کا ذکر ہوا اور وہ عدالت کے سامنے پیش کی گئی۔چیف جسٹس نے اس رپورٹ کے بعض حصے پڑھ کر سنائے جو آرڈینینس کی تائید میں تھے ہم نے مکرر یہ درخواست کی کہ اس کی ایک نقل ہمیں مہیا کی جائے۔جس پر یہ مکالمہ ہوا۔چیف جسٹس : نقل کی ضرورت نہیں انہوں نے جو بھی صحیح یا غلط مشورہ دیا ہے ہم اس کے پابند نہیں۔مجیب الرحمن : اسلامک آئیڈیا لوجی کونسل والوں نے بھی کوئی وجہ جوازن قوانین کی بیان نہیں کی۔چیف جسٹس اسلامک آئیڈیا لوجی کونسل وجوہات کم ہی بیان کرتی ہے۔(اس پر عدالت سمجھتی ہے۔میں ایک قہقہہ بلند ہوا) حاجی غیاث محمد وکیل سرکار : وہ اپنے آپ کو چیف جسٹس : اگر انہوں نے کوئی وجہ دی بھی ہوتی تو ہم پر وہBinding نہ ہوتی۔اصل زیر بحث تو قانون ہے۔Above Reason یوں عدالت میں ہی یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلامی نظریاتی کونسل اپنی سفارشات کی تائید میں کوئی وجہ یا دلیل بیان کرنے کی عادی نہیں ہے بلکہ سرکاری وکیل کے نقطہ نظر سے وہ اپنے آپ کو دلیل سے بالا تصور کرتی ہے۔عدالت نے اس مرحلہ پر یہ تو کہا کہ ہم نظریاتی کونسل کی سفارشات کے پابند نہیں۔یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ جو بھی سفارش تھی اس کی کوئی دلیل یا وجہ بیان نہیں کی گئی۔بایں ہمہ جب عدالت کا فیصلہ سامنے آیا تو عدالت نے بھی قانون کو تو جائز قرار دے دیا مگر قرآن و سنت سے اس کی کوئی دلیل بیان نہ کی۔پہلے دن کی کارروائی میں ہم نے دوسری درخواست یہ کی کہ ہمیں کارروائی ٹیپ ریکارڈ 14