امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 193
{7} تفصیلی فیصلہ مختصر فیصلے میں یہ تحریر کیا گیا تھا کہ فیصلے کی وجوہات بعد میں تحریر کی جائیں گی تفصیلی فیصلہ جب جاری ہوا تو فیصلے کی تاریخ 28 / اکتوبر 1984 ء ظاہر کی گئی۔اور سماعت کا آخری دن 12/ اگست 1984ء درج کیا گیا ، جس سے فوری تأکثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیسے 12 اگست کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا اور اب 28 اکتوبر کو فیصلہ جاری کیا جا رہا ہے تفصیلی فیصلے میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ کوئی مختصر فیصلہ بھی جاری کیا گیا تھا۔اور کہ یہ فصیلی فیصلہ کسی مختصر فیصلے کی تفصیلات پر مبنی ہے۔تفصیلی فیصلہ چارجوں کے دستخطوں سے جاری ہوا۔پانچویں حج کا ذکر تک نہیں تھا کہ ان کی اختلافی رائے یا تائیدی رائے آخر کیا تھی۔ہوا یہ کہ چیف جسٹس صاحب کو جنرل ضیاء الحق نے ایک نئی آئینی ترمیم کر کے عہدہ سے الگ کر دیا۔ترمیم یہ کی گئی کہ صدر کسی وقت بھی کسی حج کو کسی دیگر منصب پر فائز کر سکتا ہے اور اگر جج وہ عہدہ یا منصب قبول نہ کرے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی متصور ہو گا۔چیف جسٹس آفتاب حسین صاحب کسی دورہ پر گئے ہوئے تھے۔صدر نے ان کو وزارت مذہبی امور کا مشیر مقرر کر دیا جو چیف جسٹس کے منصب سے بہت کمتر حیثیت کا عہدہ تھا۔چنانچہ انہوں نے منصب قبول نہ کیا اور یوں مستعفی ہو کر فارغ ہو گئے اور تفصیلی فیصلہ چار ججوں کے دستخطوں سے جاری ہوا۔اختلاف تو ظاہر وباہر تھا ، وہ 193