امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 190
تھا۔فریق مخالف اپنی جگہ پریشان تھا۔ایک کھلبلی مچی ہوئی تھی اور یہ اظہار ہورہا تھا کہ احمدی ہمیں لے بیٹھیں گے۔چنانچہ ہر کارے دوڑائے جارہے تھے۔چیفس جسٹس کو درمیان میں سماعت روک کر ایک دن کے لئے اسلام آباد جانا پڑا۔بہر حال اختلافی فیصلہ کے اندیشہ کے پیش نظر اس بات کا انتظام کرنا ضروری تھا کہ پہلے ایک متفقہ فیصلہ سنا دیا جائے اور پھر بعد میں تفصیلات لکھی جائیں چنانچہ مختصر فیصلہ سنایا گیا اور اس پر پانچوں جوں نے دستخط کئے۔فیصلے میں اتفاق رائے تو حاصل کر لیا گیا مگر ہماری بحث کا اثر فیصلے میں نمایاں جھلکتا تھا۔عدالت ذہنی طور پر یہ محسوس کر رہی تھی کہ مذہبی آزادی کے حق سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور کسی نہ کسی رنگ میں مذہبی آزادی کا حق تو تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔ہمارے استدلال سے یہ بات ظاہر ہوتی تھی کہ مذہبی آزادی کسی بھی صورت میں سلب نہیں کی جاسکتی۔اور نہ ہی مذہبی آزادی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔استدلال اتنا بھر پور اور مؤثر تھا کہ اس سے جان چھڑانا مشکل تھا ، جس کا اثر مختصر فیصلہ میں نمایاں تھا۔مختصر فیصلے میں عدالت نے لکھا کہ مذکورہ ordinance آئین اور قرآن وسنت کے احکام کے مطابق سائلان اور قادیانیوں کو اپنے مذہب کے اظہار اور اس پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا۔وہ اس بارے میں آزاد ہیں کہ وہ قادیانیت یا احمدیت کو اپنا مذہب ظاہر کریں اور مرزا غلام احمد قادیانی پر نبی ، مسیح موعود اور مہدی موعود کے طور پر اپنے ایمان کا اظہار کریں۔وہ اس بات میں آزاد ہیں کہ وہ اپنی عبادات من جملہ دیگر اپنی عبادت گاہوں میں اپنے مذہب کے مطابق ادا کریں۔دوسرے پیرا میں لکھا کہ زیر اعتراض ardinance-1974ء کی آئینی ترمیم کا نتیجہ ہے جس کے ذریعے سے قادیانی اور لاہوری گروپ کو اسلامی شریعت کے احکام کے مطابق غیر مسلم قرار دیا گیا۔190