امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 189
{6} فوری اور مختصر فیصلہ ( ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے ) چودہ روز تک بحث ہوتی رہی ، بیشمار حوالہ جات پیش کئے گئے ، دونوں طرف سے دلائل دیئے گئے۔ہماری طرف سے کوئی درخواست حکم امتناعی یا قانون کو معطل کرنے کے بارہ میں نہیں تھی۔ان حالات میں فیصلہ صادر کرنے میں جلدی کی کوئی وجہ نہیں تھی۔عموماً ایسی صورت میں فیصلہ محفوظ کر لیا جاتا ہے اور مکمل فیصلہ تحریر کرنے کے بعد سنایا جاتا ہے۔مگر اس معاملہ میں عدالت نے یہ مناسب سمجھا کہ ہماری بحث ختم ہوتے ہی تھوڑی دیر کے لئے عدالت اُٹھی اور وقفہ کے بعد واپس آ کر اپنا ایک مختصر فیصلہ سنا دیا جس کی رُو سے ہماری درخواست خارج کر دی گئی۔یہ بات ظاہر تھی کہ عدالت کے ذہن پر کوئی ایسا دباؤ تھا جو انہیں مجبور کر رہا تھا کہ مفصل فیصلہ لکھنے سے پہلے ایک مختصر فیصلہ کے ذریعہ درخواست خارج کر دی جائے۔در اصل بحث کے دوران یہ محسوس ہو رہا تھا کہ عدالت کی رائے بٹی ہوئی ہے اور فیصلہ شائد متفقہ نہ ہو، اختلافی فیصلہ ہو۔سماعت کے دوران جس طرح کے سوالات ہو رہے تھے اس سے چیف جسٹس شیخ آفتاب حسین اور بعض دوسرے جوں کے خیالات کا اندازہ ہو رہا 189