امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 187
ہماری آخری گزارش اس عدالت کے سامنے یہ ہے کہ ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق زیر نظر امور پر عدالت کی معاونت کی ہے اور مقدور بھر کوشش کی ہے کہ کوئی پہلو عدالت کی نظر سے اوجھل نہ رہے۔ہم نے یہ بات بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اکثریت کو اس بات کا کوئی اختیار نہیں کہ وہ ہمیں از خود ایک نام دے کر پھر ہمارے لئے ہمارا مذہب اور عقائد معین کرے ہمارا مذہب وہی ہے جو ہم بیان کریں گے اور ہمارا مذ ہب آئینی ترمیم سے پہلے مشہور ومشہود تھا اور خود زیر نظر آرڈینینس شاہد ہے کہ اذان اور مسجد وغیرہ ہمارے مذہبی اعتقاد اور اس کے عملی اظہار کا حصہ ہیں لہذا اس کو تبدیل کر کے کوئی نیا مذہب تبدیل کرنے کی جو صورت بھی ہو گی وہ قرآن وسنت کے منافی ہوگی اور خدا اور اس کے رسول کے ذمہ سے بغاوت ہوگی۔ہم نے اپنا نقطہ نظر کمال ادب اور مقدور بھر وضاحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے اور اس کا محرک ملک و قوم کی محبت اور ہمدردی کا جذبہ ہے کہ قوم خدا اور اس کے رسول کے احکام کی خلاف ورزی سے کسی معصیت اور اس کے وبال سے بچ جائے ورنہ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمارے لئے ہمارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادڈھارس اور اطمینان کا باعث ہے:۔سيكون بعدى ناس من أمتى يسد الله بهم الثغور يؤ خذ منهم الحقوق ولا يعطون حقوقهم اولئك منى وانا منهم (کنز العمال جلد 12 صفحه 182 مطبوعه حلب 1973ء) میرے بعد میری اُمت میں سے ایسے لوگ ہوں گے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سرحدوں کو محفوظ کرے گا۔ان سے حقوق لئے تو جائیں گے مگران کو حقوق دیئے نہیں جائیں گے۔یہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔ہم اپنے اس تعلق پر راضی ہیں اور ہم بفضل خدا اس یقین پر قائم ہیں کہ خدا اور اس کے رسول 187