امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 186
دوسرے ادوار کے سربراہان مملکت پاکستان بھی اولوالامر تھے تو احمدیوں کے بارہ میں ان کے نافذ کئے ہوئے قوانین یا ان کی جاری کی ہوئی ضمانتیں کس اختیار سے باطل کی جاسکتی ہیں۔جہاں تک شرعی عدالت کا سوال ہے یہ مسئلہ غور طلب ہے کہ شریعت کی رو سے شرعی عدالت کونسی ہے؟ قرآن حکیم کے ارشادات کے مطابق شرعی عدالت خواہ کوئی بھی قائم کرے وہ اسی صورت میں شرعی عدالت کہلائے گی جب وہ قرآن وسنت کے احکام کے مطابق فیصلہ کرے گی۔شرعی عدالت کے اختیار کا مصدر کوئی حاکم وقت نہیں ہوتا۔بلکہ درحقیقت قرآن وسنت کے مطابق انصاف کے صدور سے ہی کوئی عدالت شرعی عدالت بنتی ہے۔اگر محض اقتدار وقت کو شرعاً اولوالا مرسمجھ لیا جائے تو کیا مذہبی امور میں کوئی شیعہ حاکم وقت اہلسنت کے عقائد کے خلاف یاسنی حاکم وقت اہل تشیع کے عقائد کے خلاف قانون سازی کرنے کا مجاز ہے! اگر نہیں تو کسی غیر مسلم کے عقائد اور عبادات پر اثر انداز ہونے والی قانون سازی کا اختیار کہاں سے حاصل ہوا ؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا فاضل مشیرانِ عدالت اور فاضل وکیل سرکاری میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔اور جن کا جواب اس عدالت کو تلاش کرنا ہے۔ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ شرعی عدالت اقتدار وقت نے قائم کی ہے۔اور محض عدالت کے قیام سے ہی قرآن وسنت کی بالا دستی قائم کرنا عدالت کا فرض ہو گیا ہے اور یہ عدالت اقتدار وقت کی کسی مصلحت اندیشی کی پابند نہیں ہے۔جہاں تک اقتدار وقت کا تعلق ہے امور دنیا اور امور سلطنت میں اقتدار وقت اولوالامر کی حیثیت تو رکھتا ہے اور اس بارہ میں قانون سازی اور احکام بھی نافذ کر سکتا ہے مگر امور دین میں اقتدار وقت کی حیثیت نہ اولوالامر کی ہے نہ شرعی اولوالامر کی ہے اور نہ ان امور میں قانون سازی کا اختیار ہے۔لہذاز یر نظر آرڈینینس کو باطل قرار دیا جانا چاہئے۔186