امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 185 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 185

اس سے یہ بات واضح ہے کہ نہ تو اولوالا مرقانون سازی کرسکتا ہے اور نہ ہر قانون سازی کا مجاز اولوالامر مذہبی اور تعبدی امور میں قانون سازی کا مجاز ہے۔امام وقت اور اولی الامر کا فرق زیادہ نمایاں طور پر واضح ہو جاتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ عالم اسلام میں ایک ہی وقت میں کئی اولوالامر اپنے اپنے دائرہ کار کے اندر موجود ہیں۔اگر شرعی نقطۂ نگاہ سے ہر ایک کو اولوالامر سمجھا جائے تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ پھر یہ۔اولوالامر باہم متصادم کیوں ہیں۔مثلاً مینی اور صدام میں سے حقیقی اولوالا مرکون ہے؟ اور اگر صدر قذافی اور حافظ الاسد اور نمیری وغیرہ سب اولوالامر ہیں تو کیا ان کے احکام یکساں طور پر واجب التعمیل ہیں۔اس کا واضح جواب یہ ہے کہ نہیں اس صورت میں ہمارا یہ موقف درست ثابت ہوتا ہے کہ گوکسی مخصوص وحدت اور علاقے کے لئے اور بعض مخصوص مقاصد کے لئے کوئی شخص اولوالا مر بھی ہو وہ لازماً ہر معاملے میں اولوالامر نہیں ہوتا اور یوں گویا آخری سند خدا اور اس کا رسول ہی رہتے ہیں اور کسی وقت بھی کوئی اولوالا مرکسی مفہوم میں آخری سند نہیں ٹھہرتا۔اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ صدر پاکستان کیونکہ اولوالامر ہیں لہذا وہ جس طرح چاہیں قانون سازی کر سکتے ہیں۔اولوالامر کے سلسلے میں ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ جو بھی اولوالامر ہو اس کے اپنے اولوالامر ہونے کی سند یا جواز کیا ہے؟ کیا کوئی متغلب یا فوجی آمر بھی شرعی معنوں میں اولوالامر ہوتا ہے؟ اور کیا اس کا ہرحکم شرعاً اولوالامر کا حکم کہلا سکتا ہے؟ یہ امر بھی غور طلب ہے کہ جن امور میں اولوالامر کو قانون سازی یا احکام نافذ کرنے کا اختیار ہے۔اگر ان کی حیثیت واقعی شرعی ہے تو کیا کوئی بعد میں آنے والا اولوالا مران احکام یا قوانین کو باطل کر سکتا ہے؟ اگر کر سکتا ہے تو اس کو یہ اختیار قرآن وسنت نے کہاں دیا ہے؟ مثلاً موجودہ صورتحال میں اگر سر براہ مملکت پاکستان اولوالامر ہے تو قائد اعظم اور ان کے بعد 185