امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 176 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 176

یعنی کاملوں کی روحانیت کبھی ارباب ریاضت پر ایسا تصرف کرتی ہے کہ ان کے افعال کی گویا فاعل ہو جاتی ہے۔اس مرتبہ کو صوفیاء بروز کہتے ہیں۔اسی طرح سے خواجہ غلام فرید صاحب لکھتے ہیں کہ :۔بروز یہ ہے کہ کاملین کی ارواح میں سے کوئی روح کسی کامل انسان پر افاضہ کرے جیسا کہ اس پر تجلیات افاضہ کرتی ہیں اور وہ کامل اس فیض پہنچانے والی روح کا مظہر بن جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ولی ہوں“۔(اشارات فریدی حصه دوم صفحه 110 مطبوعه 1321 مطبع مفید عام) بائی دیو بند مولانامحمد قاسم نانوتوی اسی مضمون کو یوں بیان فرماتے ہیں کہ:۔غرض انبیاء میں جو کچھ ہے وہ ظل اور عکس محمدی ہے۔کوئی کمال ذاتی نہیں۔(تحذیر الناس صفحہ 33 مطبوعہ 1309ھ سہارنپور) اور اس بات کی وضاحت یوں فرماتے ہیں:۔” جیسے آئینہ آفتاب اور اس دھوپ میں واسطہ ہوتا ہے جو اس کے وسیلہ سے ان مواضع میں پیدا ہوتی ہے جو مقابل آفتاب نہیں ہوتی ہیں پر آئینہ مقابل آفتاب کے مقابل ہوتی ہیں۔ایسے ہی انبیاء باقی بھی مثلِ آئینہ بیچ میں واسطہ فیض ہیں“۔(تحذير الناس صفحہ 33 مطبوعہ 1309 ھ سہارنپور) وو اشارات فریدی میں مہدی کے بارہ میں خواجہ غلام فرید فرماتے ہیں:۔حضرت آدم صفی اللہ سے لے کر خاتم الولایت امام مہدی تک حضور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بارز ہیں۔پہلی بار آپ نے حضرت آدم علیہ السلام میں بروز کیا۔(مقابیس المجالس صفحه 419 مقبوس نمبر 62) اس کے بعد جناب خواجہ غلام فرید ذکر فرماتے ہیں کہ حضور نے تمام انبیاء میں بروز فرمایا اور اپنے بعد اولیا ءاُمت میں بروز فر مایا۔اور پھر فرماتے ہیں:۔وتی کہ امام مہدی میں بروز فرمائیں گئے۔( مقاہیں المجالس صفحہ 419) 176