امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 11 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 11

ملا کہ وقفے کے دوران میں اُن سے ملوں۔یہ بات خلاف معمول تھی۔بہر حال میں وقفے کے دوران ان کے chamber میں حاضر ہو گیا۔بڑے تپاک سے ملے اور کہا کہ چائے کے وقفے کے دوران جب حج صاحبان اکٹھے ہوتے ہیں تو شریعت کورٹ کے جج صاحبان تمہاری بحث کا بہت اچھے رنگ میں ذکر کرتے ہیں جس سے مجھے خوشی ہوتی ہے۔میں نے چاہا کہ یہ بات تم تک پہنچا دوں۔کچھ اس طرح کا اظہار بھی کیا کہ راولپنڈی بار سے تمہارے تعلق کی وجہ سے میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔میں نے شکریہ ادا کیا اور یہ سوچتا ہوا چلا آیا کہ میں ذاتی طور پر تو اس تعریف کا مستحق نہ تھا مگر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت نے ایک ایسا خوشگوار اثر اور رعب پیدا کر رکھا تھا جس میں میرا کوئی دخل نہ تھا۔ڈاکٹر انوار اللہ ایک دیوبندی عالم اور اسلامیات میں پی ایچ ڈی تھے۔یہ اسلامی یونیورسٹی میں پروفیسر بھی تھے اور وفاقی شرعی عدالت میں بطور عدالت کے معاون فرائض انجام دے رہے تھے۔عدالت کے لئے حوالہ جات اور نظائر تلاش کرنا اور تحقیق و جستجو ان کا کام تھا۔وہ بھی ہمارے طریق کار، ہماری تحقیق اور ہمارے اندازِ استدلال سے خاص طور پر متاثر ہوئے۔مقدمہ کی سماعت ختم ہو جانے کے ایک عرصہ بعد میں اسلام آباد بار روم میں بیٹھا تھا کہ ایک نوجوان وکیل میرے پاس آئے اور اپنا تعارف کروانے کے بعد کہنے لگے کہ میں آپ کا شاگرد ہوں۔میں نے کہا کہ کہاں پڑھتے رہے ہیں آپ ! تو کہنے لگے کہ میں نے اسلامی یونیورسٹی سے قانون کا امتحان پاس کیا ہے۔مجھے حیرت ہوئی کہ میں نے تو کبھی اسلامی یونیورسٹی میں پڑھایا نہیں۔تو اس نوجوان نے بتایا کہ ڈاکٹر انوار اللہ نے آپ کی شریعت کورٹ میں بحث کی ریکارڈنگ ایک مثالی انداز بحث کے طور پر کلاس روم میں سنوائی تھی کہ جب کوئی مسئلہ عدالت میں پیش کیا جائے تو اس کا طریق یہ ہونا چاہئے جو آپ نے پیش کیا۔11