امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 158
ختم نبوت فاضل مشیران عدالت اور وکیل سرکار کی طرف سے مختلف پہلوؤں سے جو بخشیں کی گئی ہیں ان کے ایک حصے کا ماحصل یہ ہے کہ احمدی مرزا صاحب کی نبوت کو تسلیم کر کے ختم نبوت کے منکر ٹھہرے اور ایک نئے نبی کو قبول کر کے امت مسلمہ سے خارج ہو گئے یہ بھی کہا گیا کہ مرزا صاحب نے متعدد دعاوی کئے ہیں جو نا قابل فہم ہیں یہ بھی کہا گیا کہ مرزا صاحب نے بعض انبیاء یا اولیاء اور صلحاء امت سے افضلیت کا دعویٰ کیا ہے یہ بھی کہا گیا کہ اس طرح سے احمدی گویا ایک نئی امت بن گئے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں رہا۔یہ تمام باتیں قلت تذبر کا نتیجہ ہیں۔ہم نے اپنی بحث میں اپنے عقائد کا ذکر عمد ا نہیں کیا تھا اور عدالت پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ ہم اپنے عقائد کی بحث نہیں چھیڑتے کیونکہ دستوری ترمیم کی وجہ سے عقائد کی بحث غیر متعلق ہو گئی ہے تاہم اگر فریق مخالف کی طرف سے عقائد کی بحث چھیڑی گئی تو ہم اس کا جواب عرض کریں گے۔جہاں تک ہمارے عقیدہ کا تعلق ہے ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین اور قرآن شریف کو آخری شریعت تسلیم کرتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب پیشگوئیوں پر صدق دل سے یقین رکھتے ہیں اور حضور کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی مسیح موعود د مهدی موعود کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں اور ہمارے نزدیک وہ پیشگوئی مرزا صاحب کے وجود میں پوری ہو چکی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد لَا المَهْدِي الأَعِيْسَى ابْنُ مَرْيَم (ابن ماجه کتاب الفتن باب شدة الزمان کے مطابق مسیح اور مہدی ایک ہی وجود کے دو نام ہیں اور ان دو ناموں کو ایک وجود میں جمع کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دراصل آنے والے موعود کے کام 158