امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 10
میں مجتمع اور مستحضر کر کے ان کو ذہنی طور پر الٹ پلٹ کر آخری ترتیب اپنے ذہن میں متعین کر لیتا اور اگلے روز دعا کے بعد عدالت کے لئے روانگی ہو جاتی۔عدالت کے اندر جو کارروائی ہوتی اس کی رپورٹنگ کے لئے روز نامہ الفضل کی طرف سے مکرم یوسف سہیل شوق صاحب مرحوم اور شعبہ زود نویسی کے مکرم یوسف سلیم صاحب نے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔بغرض اطلاع روزانہ رپورٹ حضرت خلیفتہ اسیح کی خدمت میں بذریعہ فیکس بھجوا دی جاتی تھی۔آئندہ صفحات میں جہاں کوئی بات مکالمہ کے رنگ میں نظر آئے وہ ان حضرات کی تیار کردہ رپورٹ سے لی گئی ہے۔حوالے پہلے سے تیار ہوتے تھے۔ان کی پانچ پانچ فوٹوسٹیٹ نقول جوں اور ایک ریڈر کو مہیا کرنے کے لئے تیار کر کے رکھ لی جاتی تھیں۔حوالوں کو ترتیب دے دی جاتی تھی۔عدالت میں یہ عالم تھا کہ میں اپنی بحث تسلسل اور روانی سے جاری رکھتا تھا اور صرف ہاتھ بڑھا دیتا تھا۔حافظ مظفر صاحب متعلقہ کتاب میرے ہاتھ میں پکڑا دیتے تھے اور کوئی نوجوان حوالے کی پانچ نقول متعلقہ عدالت کے افسر کے حوالے کر دیتے تھے اور فوٹوسٹیٹ ہر حج کے سامنے پہنچ جاتی تھی۔ہمارا قائم کردہ یہ طریق اتنا مؤ ثر تھا کہ عدالت نے بعد میں فریق مخالف سے بھی ایسی توقع کی مگر کسی کی طرف سے بھی اس انداز میں معاونت پیش نہ کی جاسکی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے عدالت پر بھی اچھا اثر تھا۔ہما راٹیم ورک خدا کے فضل سے ایسا تھا کہ اپنوں اور غیروں نے اس کی داد دی۔ایک نظام کے تحت ٹیم ورک کے نتیجہ میں تائید الہی کا یہ کرشمہ بھی ہم نے دیکھا کہ بھری عدالت میں بیساختہ بار بار اس امر کا اظہار کیا گیا کہ ہماری ٹیم بہت مضبوط ہے۔(الحمد للہ علی ذالک ) عدالت کا یہ تاثر دورونز د یک تک پہنچا۔ان دنوں جسٹس گل زرین کیانی لاہور ہائی کورٹ میں حج تھے۔راولپنڈی بار سے ان کا تعلق تھا اور یوں میرے ساتھ پیشہ ورانہ تعارف اور شناسائی تھی۔ایک روز مجھے ان کا پیغام 10