امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 151
یہی وجہ حسین کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اس کے زمانہ میں محبت کی تا حسین سے بھی محبت کی جاتی۔غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے۔اور جو شخص حسین یا کسی اور بزرگ کی جو ائمہ مطہرین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے۔وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے کیونکہ اللہ جلشانہ ، اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے“۔(مجموعه اشتهارات جلد سوم صفحه 545,544) پھر یہ کہا گیا تھا کہ 1973 ء کا آئین نص شرعی نہیں ہے تو ہم یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ اس میں جو ترمیم کی گئی ہے وہ نص شرعی کس طرح بن گئی۔اس لئے آپ قرآن وسنت کی روشنی میں فیصلہ فرماویں کہ ان اعتقادات کے ساتھ کون مسلمان ہوتا ہے اور کون نہیں۔مشیر عدالت قاضی مجیب صاحب نے اپنے بیان میں هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَة بِالْهُدى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّه کا ذکر کیا تھا مگر مفسرین نے بصراحت لکھا ہے کہ اس آیت میں جس غلبہ کا ذکر ہے وہ ظہور مہدی کے وقت ہوگا جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔( تفسیر حسینی مترجم جلد 2 صفحہ 510 زیر آیت هوالذی ارسل رسله۔۔۔۔۔الصف جامع البیان طبری جز 28 صفحہ 88 تفسیر مظہری جز 5 صفحہ 260-259 کراچی۔از قاضی محمد ثناء اللہ عثمانی بحار الانوار جز 51 صفحه 69 بیروت از محمد باقر مجلسی ) کوئی کہ سکتا ہے کہ یہ وہ نہیں۔لیکن جب وہ آئے گا تو اس کو وہ سب کچھ کہیں گے جو ہم کہتے ہیں اور اس کی ویسے ہی اطاعت کی جائے گی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واجب ہے کیونکہ وہ آپ کا نائب ہو کر آئے گا۔امام مهدی اِمَامًا حَكَمًا عَدَلًا ہوں گے۔قرآن کریم کے مفہوم کے بارہ میں اختلافات کا فیصلہ وہی کریں گے۔آپ خود بھی تسلیم کریں گے کہ جب آپ کے مہدی 151