امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 147 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 147

رِضْوَانًا کے لفظ سے بھی کوئی تعارض لازم نہیں آتا کیونکہ بقول صاحب روح المعانی مَافِی زَعْمِهِم“ یعنی وہ اپنے خیال میں رضوان الہی کے طالب ہوتے ہیں۔(روح المعاني الجزء السادس صفحه 54 مكتبه امدادیه ملتان) جہاں تک سورۃ توبہ کی آیات کی رو سے مشرکین کے حرم کعبہ میں داخل ہونے کی ممانعت کا تعلق ہے۔سورۃ برأت کی آیات کا جائزہ لیا جائے تو ان کا مفہوم ومراد حربی مشرکین ہی معلوم ہوتے ہیں اور ہمارے اس خیال کی تائید علامہ سیوطی کی ان روایات سے ہوتی ہے جو انہوں نے در منثور میں درج فرمائی ہیں کہ مسلمان کا کافر غلام اور ذقی حرم کعبہ میں داخل ہونے کی ممانعت سے مستثنیٰ ہیں۔علامہ سیوطی نے اس بارہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت قتادہ کی تفسیر پر انحصار کیا ہے۔(الدرالمنثور في التفسير الماثور المجلد الثالث صفحه408 زیر آیت توبه:48) اور یہ ہم اصول تفسیر کے ضمن میں ظاہر کر چکے ہیں کہ صحابہ کی تفسیر دیگر تفاسیر کی نسبت زیادہ مستند اور معتبر ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس آیت کے نسخ کے بارہ میں مفصل بحثیں موجود ہیں جن کا ماحصل یہی ہے کہ یہ آیت منسوخ قرار نہیں دی جاسکتی اور سب سے محکم قول خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے آخری بات جو ہم تک پہنچی وہ وہی ہے جو حجتہ الوداع کے موقعہ پر حضور نے فرمائی یعنی یہ کہ اَحِلُّوْاحَلالَهَا وَحَرِّمُوْا حَرَامَهَا اب اگر ہمارے دوست قرآن کی آیت اور اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تفسیر کو بھی جو تا کیدی حکم کے رنگ میں ہے نہیں ماننا چاہتے تو وہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی میں خود مختار ہیں۔جو چاہیں کریں۔ہمارے نقطہ نظر کی تائید میں واضح نص قرآنی اور نص سنت رسول موجود ہے۔اور اگر ارباب اقتدار نصوص قرآنی اور سنت نبوی کو اپنی سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں تو ہم نے تو پہلے دن یہ عرض کیا تھا کہ ہم صرف اتمام حجت کے لئے حاضر 147