امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 146
" ابو میسرہ کا یہ مذہب ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور عطا کے نزدیک کیونکہ لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللہ سے منشاء یہ ہے کہ ایسے امور سے تعرض نہ کرو جو خدا کی ناراضگی کا باعث ہوں اس لئے لَا تُحِلُّوْا شَعَائِرَ الله منسوخ نہیں ہوسکتی۔(الناسخ والمنسوخ صفحہ 116) علامہ قرطبی نے یہ روایت بھی درج فرمائی ہے کہ:۔آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقعہ پر سورۃ المائدہ کی تلاوت فرمائی اور فرمایا اے لوگو! سورۃ مائدہ آخر میں نازل ہوئی ہے۔پس اس کے حلال کو حلال سمجھو اور اس کے حرام کو حرام قرار وو - (فَاحِلُوْا حَلَالَهَا وَحَرِّمُوْا حَرَامَهَا) (تفسير القرطبى الجزاء السادس صفحه 31ـ بيروت) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بیدارشاد مبارک دیگر تفاسیر میں بھی منقول ہے۔چنانچہ مفتی محمد شفیع صاحب نے تفسیر معارف القرآن میں روح المعانی کے حوالے سے حضور کا یہی ارشاد درج کیا ہے۔(معارف القرآن جلد سوم صفحہ 10 ادارۃ المعارف کراچی 1971 ءاز مولا نا مفتی محمد شفیع) ہم عدالت کو اپنے مقدور کی حد تک کسی اُلجھن میں نہیں چھوڑنا چاہتے۔رہا یہ سوال کہ اگر یہ آیت منسوخ نہیں ہے تو سورہ برأت کی آیات اور اس آیت میں ظاہری تعارض کا حل کیا ہے۔سو اس بارہ میں عرض یہ ہے کہ اول تو کوئی تعارض ہے نہیں جیسا کہ ایک حصے کے بارہ میں شاہ ولی اللہ نے فرمایا کہ:۔جو قتال حرام ہے وہ شہور محرمہ میں اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے“۔گو یا صورت تعارض کی نہیں تخصیص اور تاکید کی ہے۔الفوز الكبير صفحه 36) جن اصحاب نے آیت کے حصہ مینَ البَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا“ کو منسوخ مانا ہے۔اس کی تشریح میں صاحب روح المعافی یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ اس میں بھی کوئی حقیقی تعارض یا تضاد نہیں کیونکہ فضلا سے مراد تجارتی منافع ہیں اور 146