امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 145 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 145

حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینہ تمہارے اس شہر میں حرمت رکھتا ہے“۔(الفوز الكبير صفحه 36,35 اداره علوم اسلاميه لاهور اپریل 1979ء) شاہ ولی اللہ سے پہلے امام ابن القیم الجوزی اپنی کتاب ”اعلام الموقعین میں یہ فرما چکے ہیں کہ سورۃ مائدہ کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔لکھتے ہیں :۔فَإِنَّ الْمَائِدَةَ مِنْ آخِرِ الْقُرْآن نُزُوْلاً وَلَيْسَ فِيْهَا مَنْسُوخ (اعلام الموقعين جلد اوّل عربی صفحه 106) محض حافظ ابن قیم پر ہی مدار نہیں۔تفسیر قرطبی میں بھی اس بارہ میں مفصل بحث موجود ہے اور اس کے مطابق علماء کا ایک گروہ جن میں ابو میسرہ بھی شامل ہیں اس آیت کو محکم قرار دیتا ہے اور اس میں سے کچھ بھی منسوخ نہیں مانتا۔مجاہد کے نزدیک آیت کا حصہ ”القلائد“ اور شیعی کے نزدیک آیت کا حصہ "ولا الشهر الحرام ولا الهدى منسوخ ہیں ان میں سے کسی نے بھی لَا تُحِلُوا شَعَائِرَ الله والے حصہ کو منسوخ قرار نہیں دیا جو ہمارے استدلال کی بنیاد ہے اور نہ ہی تعاونوا علی البر والتقوى“ والے حصہ کو منسوخ قراردیا ہے جس سے ہمارے استدلال کو تقویت پہنچتی ہے۔اب آئیے ہم ان حصوں کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں جن کو بعض بزرگوں نے منسوخ قرار دیا ہے۔تفسیر قرطبی میں سورۃ مائدہ کے تعارفی حصے میں علامہ قرطبی نے جبیر بن نفیر کی روایت نقل کی ہے کہ میں حضرت عائشہ کے پاس حاضر ہوا آپ نے پوچھا کیا تم سورۃ مائدہ کی تلاوت کرتے ہو۔میں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا یہ آخری سورۃ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اتاری۔پس اس میں تم جو حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو حرام پاؤ اسے حرام قراردو۔(تفسير سورة المائده القرطبي الجزء السادس صفحه 31 بيروت) علامہ ابو جعفر النحاس اپنی کتاب ” الناسخ والمنسوخ میں جو 724ھ میں تصنیف کی گئی اس آیت کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ :۔145