امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 144 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 144

کمزوری پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔بہر حال سورۃ مائدہ کی آیت لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ الله کے بارے میں مولانا عبد القدوس قاسمی صاحب کے ایک سوال پر ہم نے اگلے ہی روز بعد تحقیق اس آیت کے نسخ کے بارہ میں جملہ آراء جو در منثور میں درج ہیں عدالت میں پڑھ کر سنا دی تھیں اور یہ بات واضح کر دی تھی کہ تین مختلف آیات سے اس آیت کے نسخ پر استدلال کیا گیا ہے اور اس سے ہمارے استدلال پر کوئی زدنہیں پڑتی تھی بلکہ دستور قائم رہا کہ بہر صورت اس آیت سے مستنبط اصول اور بنیادی ہدایات قائم اور جاری ہیں بالخصوص اس لئے کہ جنہوں نے اس آیت میں کوئی نسخ مانا ہے آیت کے کسی حصہ کو ہی منسوخ تصور کیا ہے پوری آیت کو نہیں۔اب جب کہ فاضل وکیل سرکار نے اس آیت کے نسخ میں پناہ تلاش کی ہے ہم ان کا یہاں بھی تعاقب ضروری سمجھتے ہیں۔چنانچہ ناسخ و منسوخ کے مضمون میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک وقت میں قرآن شریف کی قریباً پانصد آیات منسوخ تصور کی گئیں اور بعد میں آنے والے جوں جوں ان آیات کا باہمی ، ظاہری تضاد دور کرنے میں کامیاب ہوئے منسوخ آیات کی تعداد کم ہوتی چلی گئی۔علامہ جلال الدین سیوطی کے زمانہ میں یہ تعداد گھٹتے گھٹتے ہیں پر آ گئی اور حضرت شاہ ولی اللہ نے ان میں آیات میں سے بھی پندرہ حل کر لیں اور شاہ ولی اللہ کے نزدیک صرف پانچ آیات منسوخ تھیں۔ہمارے نزدیک وہ پانچ بھی منسوخ نہیں ہیں کیونکہ ان میں بھی کوئی حقیقی تعارض یا تضاد نہیں ہے بہر حال حضرت شاہ ولی اللہ نے منجملہ دیگر آیات کے سورۃ مائدہ کی اس آیت کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ محکم ہے۔چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں:۔میں کہتا ہوں اس آیت کا ناسخ نہ قرآن مجید میں ہے اور نہ حدیث صحیح میں البتہ اس کے یہ معنی ہیں کہ جو قتال حرام ہے وہ شہور محرمہ میں اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ میں فرمایا کہ تمہاری جان و مال تم لوگوں کے اوپر اس طرح 144