امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 9
یو نیورسٹی کی لائبریری، لاہور میں بادشاہی مسجد کی لائبریری، لائبریری پنجاب یونیورسٹی اور پنجاب پبلک لائبریری اور بعض دیگر لائبریریوں سے بھی حوالہ جات کی تلاش میں استفادہ کیا گیا۔حوالہ جات میں پیش ہونے والی عربی عبارتوں کے تراجم سے متعلق پیش آنے والے ممکنہ اشکال کے حل کرنے میں مکرم محترم ملک مبارک احمد صاحب مرحوم اور مکرم محترم مولانا جلال الدین قمر صاحب مرحوم کی راہنمائی ہمیں میسر تھی۔لائبریری میں سے کتب مہیا کرنے اور حوالہ جات کی تلاش کے سلسلہ میں مکرم مولانا محمد صدیق صاحب مرحوم ، تاریخی حوالہ جات کی تلاش کے سلسلہ میں مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد مرحوم، کتب فقہ سے متعلقہ حوالہ جات کے لئے مکرم مشمس الحق صاحب مرحوم اور تفاسیر اور علم کلام سے متعلق حوالہ جات کے لئے مکرم نصیر احمد قمر صاحب اور مکرم مبشر احمد کاہلوں صاحب مستعدی سے بھر پور اور قابلِ قدر معاونت سرانجام دیتے رہے۔درخواست دائر کرنے سے قبل ابتدائی تیاری کے لئے بیت الفضل اسلام آباد میں خاکسار اور مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کا بھی کئی ہفتے قیام رہا۔تیاری کا طریق کار یہ تھا کہ جملہ حوالہ جات کی تلاش کیلئے الگ الگ ٹیمیں کام کر رہی تھیں۔کام مکمل ہونے کے بعد یکجائی طور پر مطالعہ کیا گیا اور اس عاجز کی ضروریات کے مطابق ترتیب دے دیا گیا تھا۔جب سماعت شروع ہوئی تو وہ حوالہ جات جن کا آئندہ روز کی سماعت میں زیر بحث آنے کا امکان ہوتا تھا، وہ سب رات کو اکٹھے کر کے ان کے سیاق وسباق کا مطالعہ کیا جاتا تھا اور ان حوالہ جات پر اس عاجز کی طرف سے جرح بھی زیر غور آتی تھی۔اس طرح تمام حوالہ جات کی چھان پھٹک کے بعد راقم الحروف برادرم محترم حافظ مظفر احمد صاحب کے ساتھ بیٹھ کر آئندہ روز کے لئے اپنی بحث اور استدلال کی ترتیب اپنے ذہن میں متعین کرتا اور حوالہ جات کی اس اعتبار سے ترتیب دے لی جاتی تھی۔اس کام سے فارغ ہونے کے بعد راقم الحروف اکیلا بیٹھ کر اپنے خیالات اور استدلال کو اپنے ذہن 9