امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 143 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 143

پھر ہم حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب الفوز الکبیر کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس میں حضرت شاہ صاحب نے فرمایا ہے:۔غرائب قرآن کی شروح میں بہترین شرح مترجم القرآن حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ہے جو ابن ابی طلحہ کے طریق روایت سے صحت کے ساتھ ہم کو پہنچی ہے اور غالباً امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی صحیح بخاری میں اس طریق پر اعتماد فرمایا ہے“۔الفوز الكبير في اصول التفسير فصل اوّل باب دوم صفحه 31 سن اشاعت 1979ء از شاه ولی الله محدث دهلوی مترجم مولوی رشید احمد انصاری) یہ توتھی روایت کے مستند ہونے کی بات۔دوسرا اعتراض فاضل وکیل سرکار نے ہمارے اس آیت سے استدلال پر یہ کیا ہے ہ یہ آیت منسوخ ہے جناب وکیل سرکار نے مجھ پر یہ ناجائز طعن بھی کیا ہے کہ ہم نے ساری تفاسیر پیش نہیں کیں اور یہ کہ اپنی مخالف آراء کو پیش نہیں کیا حالانکہ عدالت کا ریکارڈ شاہد ہے کہ ہم نے قریباً تمام کی تمام مستند تفاسیر پیش کی ہیں جو متقدمین و متاخرین اور مختلف مکاتیب فکر کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ہم فاضل وکیل سرکار سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آخر وہ در منثور کو پایہ کے اعتبار سے غیر معتبر سمجھتے ہیں یا روح المعانی کو یا روح البیان کو یا رازی کو یا مدارک التنزیل کو۔ضمنا یہاں یہ بات بھی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ شاید ہمارے فاضل دوست مدارک التنزیل سے پوری طرح سے متعارف نہیں اور تفسیر نسفی کو مدارک التنزیل سے الگ کوئی چیز سمجھتے ہیں۔حالانکہ علامہ نسفی ہی مدارک التنزیل کے مولف ہیں۔پھر جناب فاضل وکیل سرکار سے ہم یہ بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ جناب مفتی محمد شفیع صاحب کی تفسیر کو پایہ سے گرا ہوا سمجھتے ہیں یا پیر کرم شاہ صاحب کی ضیاء القرآن کو یا مولانا مودودی صاحب کی تفہیم القرآن کے بارہ میں انہیں کوئی شک ہے۔اگر نہیں تو پھر فاضل وکیل سرکار کا یہ کہنا کہ ہم نے ساری تفاسیر پیش نہیں کیں محض اپنے موقف اور استدلال کی 143