امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 142 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 142

علامہ سیوطی نے سورۃ مائدہ کی آیت لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللہ کی شان نزول کے بارہ میں یہ تحریر کیا ہے کہ ابن جریر طبری نے یہ واقعہ ابن عباس کی روایت سے درج کیا ہے۔حضرت ابن عباس بالاتفاق بہترین مستند اور ثقہ روای تسلیم کئے گئے ہیں اور ان کا اپنا پایہ علم اور تفقہ فی الدین اس قدر بلند تھا کہ سیدنا حضرت عمر بن الخطاب تفسیر کے سلسلہ میں ان کی رائے کو متعبر خیال فرماتے تھے۔فاضل وکیل سرکار نے اس بنا پر اس روایت کو مجہول السند قرار دیدیا کہ درمنثور کے متن میں سلسلہ روایت درج نہیں ہے۔حالانکہ اگر وہ ذراسی تکلیف گوارا کرتے تو سلسلہ اسناد تک بآسانی پہنچ سکتے تھے ابن جریر کا حوالہ خود در منشور نے دیا ہے اور اگر صرف ابن جریر کوکھول کر دیکھ لیتے تو اس میں سلسلۂ روایت یوں درج ہے۔"حدثنا معاوية عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس 66 (جامع البيان في تفسير القرآن للامام ابی جعفر محمد بن جرير الطبرى الجزء السادس صفحه 31) یہ سلسلہ روایت بلا شبہ اصح الاسانید مانا گیا ہے اس بارہ میں بھی اگر فاضل وکیل سر کا رکو کوئی سند درکار ہو تو خود صاحب در منشور علامہ سیوطی کی کتاب الاتقان میں اس سلسلہ اسناد کے بارہ میں یہ رائے درج ہے کہ یہ بہترین سند ہے اور امام بخاری نے اسی پر اعتماد کیا ہے۔لکھتے ہیں :۔تفسیر قرآن کے بارہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس قدر کثیر روایتیں آئی ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا اور ان سے تفسیر کے متعلق کئی کئی روایتیں آئی ہیں اور ان کے اقوال کو مختلف طریقوں سے نقل کیا گیا ہے۔چنانچہ تمام ایسے طریقوں میں سے ان سے علی بن ابی طلحہ الہاشمی کا طریق روایت نہایت اعلیٰ درجہ کا ہے۔(الاتقان في علوم القرآن أردو جلد 2 صفحه 463) 142