امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 141
شان نزول کی روایت کا مجہول السند ہونا اور اس آیت کا منسوخ قرار دیا جانا یہ دونوں خواہ کتنے ہی کمز ور اعتراض ہوں مگر بہر حال علمی اعتراض ہیں اور ان کا جواب دیا جاناضروری ہے۔جہاں تک شانِ نزول کی روایت کے مجہول السند ہونے کا سوال ہے یہ اعتراض واضح طور پر غلط اور بے بنیاد ہے اور ہم اس بات پر مجبور ہیں کہ یا ہم اسے قلتِ تدبر ، قلت مطالعہ اور کوتاہی فہم پر محمول کریں یا اسے صریح مغالطہ آرائی سمجھیں۔کیونکہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ مجہول السند ہونے کا اعتراض اہلِ علم کے نزدیک قابل پذیرائی نہیں ہوسکتا۔جہاں تک ہم نے مطالعہ کیا ہے جو سلسلہ روایت اس شان نزول کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے وہ اصح الاسانید شمار ہوتا ہے۔فاضل وکیل سرکار نے در منثور سے اس کی شان نزول کی روایت عدالت کے سامنے پیش کر کے اسے مجہول السند قرار دیا تھا حالانکہ اس کتاب کے پہلے صفحہ کی پہلی سطر میں ہی علامہ جلال الدین سیوطی نے اس کتاب کی جملہ اسناد کو اسناد عالی قرار دیا ہے نیز یہ وضاحت فرمائی ہے کہ اگر چہ طوالت کے خوف سے انہوں نے تمام سلسلہ روایات در منثور کے متن میں درج نہیں فرمایا مگر جملہ روایات کی تحقیق کے بعد صرف بلند پایہ روایات ہی شامل کی ہیں۔چنانچہ علامہ لکھتے ہیں :۔"فلما الفت كتاب ترجمان القرآن وهو التفسير المسند عن رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه رضی الله عنهم وتم بحمد الله في مجلدات فكان ما اوردته فيه من الآثار باسانيد الكتب المخرج منها واردات رايت قصور اکثر الهمم عن تحصيله ورغبتهم في الاقتصار على متون الاحاديث دون الاسناد وتطويله فلخصت منه هذا المختصر مقتصراً فيه على متن الاثر مصدرابالعزوواالتخريج الى كل كتاب معتبر وسميته بالدر المنثور في التفسير بالماثور“ (الدر المنثور فى تفسير الماثور المجلد الأوّل صفحه 14 بیروت از امام سیوطی) 141