امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 140
لَا تُحِلُّوْا شَعَائِرَ اللَّهِ - نسخ کی تحقیق ہر چند کہ ہم اپنے آپ کو کفار کے زمرہ میں شامل نہیں کرتے اور قرآن وسنت ہمیں کافر نہیں ٹھہراتے مگر موجودہ مقدمہ میں ساری بحث آئینی ترمیم کی وجہ سے، اس بنیاد پر ہوتی رہی ہے کہ جو حقوق قرآن وسنت میں غیر مسلموں کے ثابت ہوتے ہیں کم از کم ان سے انکار نہیں ہو سکتا اور اس بنیاد پر یہ دلیل قائم کی گئی تھی کہ جہاں مسلم اور غیر مسلم کے شعائر مشترک ہوں وہاں غیر مسلم کو اس کے شعائر سے نہیں روکا جاسکتا۔ہم نے اس ضمن میں متعدد حوالہ جات پیش کئے تھے جو بڑے واضح اور محکم اور مدلل ہیں۔ہم نے اس بارہ میں مختلف زمانوں کی مختلف تفاسیر بھی پیش کی تھیں اور ان میں موجودہ زمانہ کی تفاسیر میں سے ضیاء القرآن، معارف القرآن اور تفہیم القرآن کے حوالے بھی پیش کئے تھے۔مولانا مودودی کا قول اس بارہ میں واضح اور مدتل ہے جو پیش کیا جا چکا ہے اور جس کی بنیاد یہ ہے کہ مشرکوں میں بھی جو جو علامات خدا پرستی کی پائی جاتی ہوں ان کا احترام لازم ہے۔اسی طرح سے تفسیر ضیاء القرآن کا قول بھی بڑا واضح اور غیر مبہم ہے۔اس آیت کے ساتھ سورۃ حم سجدہ کی آیت وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ الخ اور مائدہ کی آیت إِذَا نَادِيتُمْ إِلَى الصلوۃ پر اپنے دلائل کی بنیاد رکھی تھی۔فاضل وکیل سر کار ہمارے استدلال کو کسی پہلو سے مجروح نہیں کر سکے اور ہمارا استدلال اتنا محکم اور مضبوط ہے کہ ان کو واحد راہ فرار یہ نظر آتی ہے کہ وہ سورۃ مائدہ کی آیت : 2 کومنسوخ قرار دے دیں۔یا اس کی شانِ نزول کے بارہ میں روایت کو کسی طریقے سے مجروح کریں۔140