امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 137
اس عدالت کے فیصلہ بمقدمہ شریعت پٹیشن 3/1983-K تمثیل جاوید بنام فیڈریشن آف پاکستان کے پیرا گراف 98 میں بھی یہ حق تسلیم کیا گیا ہے کہ مذہبی جذبات کا احترام ہونا چاہئے۔ان تمام حقوق کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو اس کی بنیاد دراصل ہمیں اس قرآنی آیت میں نظر آتی ہے اور اگر عدالت اس فیصلہ پر پہنچے کہ وہ حقوق کے سلسلہ میں فقہائے سلف کی مقلد اور پابند ہونے کی بجائے خود اپنے اجتہاد سے کام لے گی تو اس اجتہاد کے لئے یہ آیت بنیاد بن سکتی ہے:۔لا يَنْهكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِين (الممتحنه: 8) ترجمہ :۔جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا۔خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔اس آیت سے جو اصول مستنبط ہوتا ہے یہ ہے کہ حربی کافر اور غیر حربی کافر میں فرق ہے۔اگر چہ انصاف دونوں سے ہونا چاہئے مگر جو غیر حربی ہے وہ سلوک اور رافت کا زیادہ مستحق ہے۔اسی اصول کے اوپر ان غیر مسلموں کی حیثیت کچھ اور بھی اوپر ٹھہرے گی جو نہ صرف یہ کہ حربی نہیں بلکہ حالات ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ برابر کے شہری ہیں اور اب تک برابر کے شہری رہے ہیں۔اس بارہ میں عدالتی مشیر محمود غازی صاحب نے بھی مشرکین اہلِ حرب اور مشرکین اہل عہد کا فرق نمایاں کیا ہے۔خلاصہ بحث یہ ہے کہ مسلمان ملک میں رہنے والے غیر مسلم شہریوں کے جو حقوق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی سنت سے ثابت ہیں ان کی ایک مختصر 137