امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 133 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 133

اگر مذکورہ بالا شہر سے مراد صوبے کا دارالحکومت دمشق ہو تو پھر حضرت خالد بن ولیڈ نے جو معاہدہ اہل شام سے کیا تھا اس کی نصوص اس معاہدہ کی نصوص سے بنیادی طور پر مختلف ہیں۔اول الذکر خالد بن ولیڈ کے معاہدے میں اسلام کی اُس معروف رواداری کی جھلک نظر آتی ہے جو ابن قیم کی ان تینوں روایات میں مفقود ہے کیونکہ حضرت خالد نے جیسا کہ ابن عساکر کی روایت میں آیا ہے اہل شام کو ان کے نفوس و اموال اور گرجوں کی امان دی تھی اور یہ کہ ان کے شہر کی فصیل نہ گرائی جائے اور نہ ہی ان کے گھروں میں سے کسی گھر میں رہائش رکھی جائے۔ان کے حق میں ان شرائط پر مشتمل اللہ کا عہد ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور ان کے حق میں خلفاء اور مومنین کی بھی یہی ذمہ داری ہے۔اور اگر وہ جزیہ ادا کرتے رہیں تو ان کے ساتھ بہترین حسن سلوک ہی کیا جائے گا اور اگر عہد میں مذکورہ شہر سے مراد دمشق کے سوا شام کا کوئی اور شہر ہے تو عجیب اور نہایت حیران کن بات ہے کہ خود حضرت عمر نے اہل حمص اور مشتمل اہل قدس سے صرف ایسے معاہدات کئے جو انتہائی رواداری اور سادگی اور سہولت پرمش تھے اور سختی اور پیچیدگی سے پاک تھے۔چنانچہ اہل حمص کو ان کے نفوس و اموال ، شہر کی فصیل اور گرجوں کی امان دی گئی کہ وہ نہ گرائے جائیں اور اہل بیت المقدس کو ان کے نفوس، اموال، گرجوں صلیبوں، ان کے بیماروں اور صحتمندوں بلکہ تمام افراد کو امان دی گئی ، یہ کہ ان کے گرجے نہ گرائے جائیں اور نہ ان میں رہائش رکھی جائے۔۔۔۔۔الخ۔پس اُس مذکورہ بالا شہر کی تعین نہ کرنا جس میں عہد طے پایا تھا اس روایت کو مشکوک بنا دیتا ہے اور اس کے راویوں کو مشتبہ بنا دیتا ہے بلکہ انہیں عمد أجعلسازی اور ابہام پیدا کرنے کی وجہ سے قابلِ مذمت ٹھہراتا ہے۔پس شروط عمریہ پر مشتمل مذکورہ تینوں روایات اپنی سند منتن اور معاہدہ طے کرنے والی 133