امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 131 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 131

اور میثاق میں ان کے حقوق ویسے ہی تھے جیسے مسلمانوں کے تھے۔رہا یہ کہنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں اہل جزیرہ (عیسائیوں) سے جو معاہدہ کیا تھا وہ بڑا سخت تھا اس لئے کہ وہاں کے عیسائیوں نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی تھیں تو یہ بات ایک تو اس لئے بھی صحیح نہیں کہ فلسطین کے عیسائیوں نے بھی کچھ کم دشمنی نہیں کی تھی جہاں تک ہم نے تحقیق کی ہے یہ معاہدہ سرا سر الحاقی نظر آتا ہے کیونکہ یہ دور نبوی اور حضرت ابو بکر کی خلافت میں طے پانے والے معاہدات کے مزاج سے ہٹا ہوا ہے۔اس بارہ میں ہم اپنی تحقیق کا شخص یہاں پیش کرتے ہیں۔شروط عمریه شروط عمریۃ کے بارے میں ہم تینوں روایات پر غور کرتے ہیں تو یہ امر ہم خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان روایات میں باہم بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔پہلی روایت بطور نص یہ واضح کرتی ہے کہ خود اہل جزیرہ ( دجلہ و فرات کے درمیانی علاقے میں رہنے والوں ) نے عبدالرحمن بن غنم کو یہ شرائط لکھ کر دی تھیں، پھر عبدالرحمن نے یہی لکھی ہوئی شرائط نقل کر کے حضرت عمرؓ کو بھجوائیں۔(احکام اهل الـ اهل الذمة جلد دوم صفحه 658 از ابن قیم) جب کہ دوسری روایت بطور نص یہ امر واضح کرتی ہے کہ عبد الرحمن بن غنم نے جب نصاری شام سے مصالحت کی تو انہوں نے براہِ راست خود یہ شرائط حضرت عمر کو لکھ کر بھیجوائیں۔(احکام اهل الذمة جلد دوم صفحه 661) تیسری روایت میں یہ امر واضح طور پر نظر آتا ہے کہ عبدالرحمن نے وہی نصاری کی لکھی ہوئی شرائط انہیں کی طرف سے حضرت عمرؓ کے نام ایک خط کی صورت میں بھجوائیں۔(احكام اهل الذمة جلد ، دوم صفحه 662) یہ امر انتہائی تعجب انگیز ہے کہ مغلوب لوگ غالب کو اپنی شرائط خودDidate کروا رہے ہیں گو یا غالب کو اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ مغلوب لوگ اس سے صلح و امن کا سلوک کریں۔131