امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 127
کوشش کی گئی ہے۔آئین 1973 ء کے آرٹیکل (3) 227 کے تحت ہمارا سٹیٹس زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔اس لحاظ سے ہمیں غیر مسلم قرار دینے کے لئے جو ترمیم کی گئی وہ خود آئین کے خلاف تھی۔تا ہم 1973 ء کے آئین میں بھی قرار داد مقاصد کو چھیڑا نہیں گیا۔پھر۔p۔C۔O یعنی عبوری آئینی حکم Provisional Constitutional Order میں بھی مذہبی آزادی کا یہ عہد دہرایا گیا۔1974ء میں ہمیں غیر مسلم قرار دینے کے لئے اسمبلی میں جو قرار داد پیش ہوئی اس میں بھی ہمارے حقوق کے تحفظ کا عہد موجود تھا۔قادیانیت اور ملت اسلامیہ کا موقف نامی کتاب کے عربی اور اردو متن سے ہم نے وہ عبارت پیش کی ہے جس میں پاکستان کی قومی اسمبلی سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسمبلی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے قانون بنائے، آئین میں ترمیم کرے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔(موقف الامة الاسلامية صفحه 6 از مولانا محمد يوسف البنورى) جہاں تک غیر مسلموں کے حقوق کا تعلق ہے جو غیر مسلم خود کو غیر مسلم کہنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور اسی میں اپنی نجات تصور کرتا ہے وہ اس ” غیر مسلم“ سے مختلف ہے جس کو حکومت غیر مسلم قرار دے رہی ہے مگر وہ خود کو مسلمان سمجھتا ہے۔اگر ہمارے ساتھ سلوک کرنے کے بارے میں کوئی نظیر ڈھونڈنی ہے تو ہمارے قریب ترین مطابقت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جن کو غیر مسلم کہا گیا، کا فرقرار دیا گیا لیکن وہ خود کو مسلمان کہتے رہے۔127