امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 126
وقت (1972۔P۔L۔D سپریم کورٹ صفحہ 137) ایک Complex سوسائٹی میں کوئی شخص قانون سے باہر نہیں ہوتا۔یہ جو بار بار یہاں کہا گیا ہے کہ اولی الامر مصلحت عامہ میں جو چاہے قانون پاس کر دے یہ غلط ہے۔اس فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سر براہ حکومت بھی Utterences of Justice کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔چنانچہ 1973ء کے دستور میں بھی اور اس سے پہلے عبوری آئین میں بھی یہ آزادی رکھی گئی۔اب عجیب بات کہی جارہی ہے کہ دستور 1973 ء تو منسوخ ہے یا معطل ہے مگر اس کی ترمیم قائم ہے؟ بے شک اکثریت اور اقلیت کو مذہب کی تو آزادی ہے لیکن اگر کبھی ایسی صورت حال پیدا ہو جائے کہ مذہب کے معاملے میں اکثریت اور اقلیت میں جھگڑا ہو جائے تو کیا کیا جائے؟ پاکستان کی تحریک کے دوران جب ہندوستان کی فیڈ ریشن وغیرہ کی باتیں ہو رہی تھیں تو یہ کہا گیا تھا کہ ایک بار جن حقوق پر اتفاق کر لیا جائے گا ان کو بدلا نہیں جائے گا اور اقلیتوں کے بارہ میں کوئی قانون اس وقت تک نہیں بنایا جائے گا جب تک کہ اس مذہب کے لوگوں کے 2/3 حصہ کی رائے ساتھ نہ ہوگی۔1973 ء کے آئین میں قرار دادِ مقاصد اسی طرح شامل ہے اس کے Preamble میں بھی مذہب اور عقیدے کی آزادی اور تبلیغ کا حق دیا گیا ہے۔اس کے بعد آرٹیکل نمبر 227 میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ تمام قوانین اسلام کے مطابق اور قرآن وسنت کے مطابق بنائے جائیں گے اور یہ کہا گیا کہ جو پرسنل لاء غیر مسلم شہریوں کے حقوق کو متاثر کرے ایسا کوئی نہیں بنایا جائے گا۔یعنی اقلیتوں کے ذاتی معاملات میں قانون سازی نہیں کی جائے گی اس کا سٹیٹس تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔مشیرانِ عدالت کی طرف سے جو بحث کی گئی ہے اس میں ہمارا Status طے کرنے کی 126