امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 125 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 125

جب 1956 ء کا دستور منسوخ ہوا تو 1962ء میں دوسرا دستور آیا لیکن اس کے درمیان میں قانون ساز اداروں کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ یہ آزادی Public Order اور Morality Lav کے ماتحت ہوگی اس کا کیا مطلب ہے۔چنانچہ چندرا کشور (PLD1957P61) کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ اقلیتوں کے حقوق کو Lay کا نام لے کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔یہ جو کہا گیا ہے کہ یہ آزادی Subject to law ہے یہ صرف غیر مسلموں کے لئے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے لئے بھی اس کی اسی طرح پابندی ہے۔قانون تو حقوق کو Protect کرنے کیلئے ہے نہ کہ سلب کرنے کے لئے چنانچہ 1962 ء کے دستور میں یہ الفاظ اسی طرح شامل رکھے گئے اور ان سے سرِ مو انحراف نہیں کیا گیا۔تو گویا سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کی موجودگی میں اسی تعبیر کو تسلیم کرتے ہوئے دوبارہ پھر انہیں الفاظ میں وہ حقوق دیئے گئے۔1962 ء کے آئین کے Preamble میں وہی قرار داد مقاصد شامل ہے جو پہلے کے آئین میں شامل تھی اور یہ قرار داد مقاصد Objective Resolotion آج بھی آئین کا اس طرح سے حصہ ہے۔کسی مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر نے بھی اسے نہیں چھیڑا۔دستور 1962 ء کے آرٹیکل نمبر 10 میں یہ بات طے کی گئی ہے کہ مذہب پر عمل کرنے ، اس کا اظہار کرنے اور اس کی تبلیغ کی اجازت ہوگی۔یہ بات 1962ء کے دستور میں شامل تھی یہ دستور منسوخ ہوا اور اس کے بعد 1973 ء کا دستور آیا لیکن اس سے پہلے بھی ایک اہم کیس عاصمہ جیلانی کیس سپریم کورٹ میں زیر بحث آچکا تھا ہم اس پر Usuper والی بحث میں نہیں جائیں گے یہ ہمارا موضوع نہیں تا ہم اس میں بھی یہ بات دوبارہ دہرائی گئی اور چیف جسٹس مسٹر جسٹس حمود الرحمن نے فیصلہ لکھا اور اپنے فیصلہ میں قرار داد مقاصد کو GrundNom قرار دیا اور اسے چھیڑ نے سے انکار کیا اور لکھا کہ یہ قرار داد مقاصد کبھی بھی Abrogate نہیں ہوئی نہ فوجی حکومت کے وقت نہ سول حکومت کے 125