امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 122
ہے جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو اور کلمہ پڑھتا ہو۔اس لحاظ سے قادیانیوں ،شیعوں ، رافضیوں، اسماعیلیوں وغیرہ سب کو مسلمان گردانا گیا ہے۔(خطبہ صدارت 26 جنوری 1936 صفحه 16,15 از مولانا شبیر عثمانی) حسین احمد مدنی صاحب نے قائد اعظم کو کا فراعظم کہا تھا اس کا جواب مولانا شبیر احمد عثمانی نے یہ دیا کہ جس طرح آپ غیر مسلموں میں ہندوؤں ہسکھوں، عیسائیوں وغیرہ سب کو شامل کرتے ہیں اور کسی کو علیحدہ مذہب پر اصرار نہیں کرتے۔اسی طرح مسلم لیگ میں سب مسلمان شامل ہیں۔(خطبہ صدارت صفحہ 16,15) اس کے بعد سرکاری طور پر شائع ہونے والی کتاب The Partition of Punjab جلد اوّل صفحہ 35 کے حوالہ سے ہم نے ثابت کیا ہے کہ جماعت احمد یہ بطور مسلمان مسلم لیگ کی جدوجہد میں شامل تھی۔اور یہ کہ اس میں احمدیہ کمیونٹی قادیان، بٹالہ مسلم لیگ ، پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈ ریشن ، سٹی مسلم لیگ منٹگمری ، سب نے الگ الگ میمورنڈم دیا تھا۔بٹالہ مسلم لیگ نے کلیم کیا کہ مسلمانوں کے ایک فرقہ کا مرکز قادیان میں ہے اس لئے اس تحصیل کو پاکستان میں شامل کیا جائے۔(477-474 The Partition of Punjab Page) اسی کتاب کی جلد دوم ( 1 Vol ) میں جماعت احمدیہ کے وکیل شیخ بشیر احمد صاحب نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے اس لئے قادیان کو پاکستان میں شامل کیا جائے۔(The Partition of Punjab VolII Page 251) جب تقسیم ملک ہوگئی اور پاکستان بن گیا تب بھی یہ معاہدہ برقرار رہا بلکہ اسے دہرایا جاتا رہا۔ماہنامہ ” فکر ونظر نومبر 1976 کے حوالے سے ثابت کیا گیا کہ پنڈت نہرو اور قائد اعظم نے مشترکہ طور پر یہ اعلان کیا کہ ہم عہد کرتے ہیں کہ سب شہریوں کے ساتھ بلا تفریق مذہب و ملت یکساں اور مساوی سلوک کریں گے۔122