امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 117 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 117

عقد ذمہ قائم کرنے کی مثالیں تو بہت ہیں کہیں صلح ہوگئی کہیں فتح ہو گئی لیکن ایسی مثال کہیں نہیں کہ مختلف لوگوں نے مل کر ایک نئی مملکت کی بنیا د رکھی ہو۔اس کی ایک ہی مثال ملتی ہے اور وہ میثاق مدینہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے مدینے تشریف لائے وہاں پر آباد یہودیوں سے مل کر ایک نئی حکومت کی بنیا درکھی گئی۔آیت قرآنی اوفوا بالعقود کی تفسیر میں تفسیر قرطبی ( تفسیر قرطبی جلد 6 صفحہ 33،32 مطبوعہ 1937 مصر ) میں لکھا ہے کہ مومن اپنی شرطوں کے خلاف نہیں کرتے۔معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب نے عقد کی تعریف بیان کی ہے اس میں ابن جریر نے صحابہ کے اجماع کے حوالے سے لکھا ہے کہ معاہدہ کو پورا کرنا ضروری ہے نیز امام راغب کے حوالے سے لکھا ہے کہ معاہدہ دو شخصوں ، جماعتوں یا حکومتوں کے مابین ہوسکتا ہے اور ہر دوفریق پر اس کی پابندی لازمی ہے۔(معارف القرآن جلد 3 صفحه 13,12 زیر آیت مائده آیت 1 از مفتی محمد شفیع) جب پاکستان بن رہا تھا تو بہت سے لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم پاکستان کی پ بھی نہیں بننے دینگے اور یہ پاکستان نہیں بلکہ پلیدستان ہے، جو لوگ اس وقت جب خود مسلمان دو گروہوں میں بٹ گئے تھے پاکستان بننے کی جدو جہد میں شامل ہوئے انہوں نے آپس میں گویا ایک دوسرے کو امان دی گویا ایک معاہدہ کیا۔جب یہ قافلہ منزل تک پہنچ گیا تو اب اس امان کو توڑا نہیں جا سکتا۔ہمیں سالار کارواں نے آئینی طور پر گارنٹی دی، پھر ملک کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں وہی ضمانت دی گئی۔چوہدری محمد علی صاحب نے اپنی کتاب میں ایگریمنٹ (Agenent) کا لفظ لکھا۔ہے۔اور مسلم لیگ کے ایک صدر نے احمدیوں سے معاہدہ کر لیا“ کے الفاظ لکھے۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قرآن وسنت کے مطابق ہمارے حقوق ہمیں دیئے جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک عورت کی امان بھی قابل قبول ہے ہمیں 117