امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 116 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 116

چنانچہ حکومت پاکستان نے۔U۔N۔O کے چارٹر پر دستخط کر کے حریت فکر اور آزادی عقیدہ کی ضمانت دی ہے اس کو تو ڑا نہیں جا سکتا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں یہودیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اور جو میثاق مدینہ“ کے نام سے مشہور ہے اس میں آپ نے معاہدہ کرنے والوں کو ملت واحدہ کا نام دیا ہے اس کی رو سے آپ ہمیں ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کر سکتے۔کیونکہ تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ اور مسلمانوں کے ساتھ اتحاد عمل کے نتیجہ میں گویا ایک معاہدہ پروان چڑھتا رہا، قول و قرار ہوتے رہے۔جب ملک وجود میں آ گیا تو بابائے قوم نے واشگاف الفاظ میں مذہبی آزادی کا اعلان فرمایا۔صرف یہی معاہدہ نہیں بلکہ قرارداد مقاصد میں اظہار رائے اور مذہبی آزادی کے اس اعلان کو شامل کیا گیا۔قرار داد مقاصد پہلے 1956 ء کے دستور میں پھر 1962 ء کے دستور پھر بعد میں 1973ء کے آئین میں بھی شامل کی گئی اور عہد گویا دہرایا جاتا رہا کہ اس سے باہر نہیں جائیں گے۔ورنہ معاہدہ کو توڑنے والے ہوں گے۔اب آپ مذہبی آزادی پر پابندی لگا کر آخر کس کس عہد کو توڑیں گے۔زیر بحث آرڈینینس اس وجہ سے بھی خلاف اسلام ہے کہ پاکستان اور اس کے عوام اور حکومت بعض مواشیق کی پابند ہیں۔بعض معاہدے بین الاقوامی ہیں اور بعض ملت کے اندر ہی کئے جاتے ہیں۔خدا اور اس کے رسول کا حکم ہے کہ عہد قائم کرنے کے بعد اسے توڑا نہ کرو۔(النمل: 91) یہ قرآن وسنت کا حکم ہے۔اس آرڈینینس میں اس سے انحراف کیا گیا ہے۔میثاق صرف وہی نہیں ہوتا جو تحریر کیا گیا ہو بلکہ یہ بھی ثابت ہے کہ اگر ایک شخص راہ جاتے ہوئے اس تاثر کے تحت (Understanding کے ساتھ ) آپ کے ساتھ چل پڑے کہ اس کو امان ہے تو اس کو بھی نہیں تو ڑنا چاہئے۔اس معاہدے کا بھی احترام ضروری ہے۔116