امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 113 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 113

یعنی لا اله الا اللہ کہنے سے آدمی ملت اسلامیہ میں شامل ہو جاتا ہے۔(طبرانی معجم الكبير جلد 11 صفحه 344 ) مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب نے کہا ہے کہ ایسا شخص مردم شماری میں آ جاتا ہے۔یہ حدیث ان کے اس قول کی موید ہے۔علامہ شوکانی نے لکھا ہے کہ ہر وہ شخص جو لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے وہ اس کے اسلام کے حق میں سمجھا جائے گا۔اگر چہ نفس الامر میں اس کے اعمال خلاف اسلام ہی کیوں نہ ہوں۔(نيل الأوطار جلد 6 صفحه 537) ایک حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ Rights ( حقوق ) اور Obligations ( ذمہ داریوں) کے لحاظ سے مسلمان اور دوسرے لوگ برا بر ہیں۔(ترمذی ابواب الایمان باب ماجاء فی قول النبي صلى الله عليه وسلم امرت بقتالهم حتى يقول لا اله الا الله ويقيموا الصلوة) پس ان آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کا مطلب یہ ہے کہ زبانی اقرار پر حقوق اطلاق پاتے ہیں اور ظاہری اعمال پر حکم لگایا جاتا ہے۔کسی کے دل کو چیر کر نہیں دیکھا جاتا۔امام راغب نے لکھا ہے کہ شرعاً اسلام کی دو قسمیں ہیں۔ایک دون الایمان یعنی ایمان سے نیچے نیچے کی حالت ہے۔اور یہ زبان سے اعتراف کا نام ہے۔اس سے اعتراف کرنے والے کی جان محفوظ ہو جاتی ہے۔خواہ اس کے ساتھ اعتقاد شامل ہو یا نہ ہو اور دوسری قسم فوق الا ایمان ہے۔اس میں زبانی اعتراف کے ساتھ دلی اعتقاد بھی شامل ہوتا ہے۔(مفردات امام راغب زیر لفظ "سلم) اعتراف باللسان یعنی زبانی اقرار کے متعلق شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بڑی وضاحت سے فرمایا ہے کہ ایمان کی ایک قسم وہ ہے جس پر دنیا کے احکام کا دارومدار ہے اور اس کا تعلق زبانی اقرار سے ہے جب کہ دوسرا حصہ آخرت میں نجات اور جزا سزا سے متعلق ہے۔(حجة اللہ البالغہ“ جلد اول صفحہ 386-385 از امام ولی اللہ شاہ محدث دہلوی ترجمہ حضرت علامہ ابومحمد عبد الحق صاحب حقانی) 113