امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 112
لا إلهَ إِلَّا اللہ پڑھ لے اس سے تعرض نہ کیا جائے ، البتہ اس کے متعلق تحقیق باقی رہتی ہے لیکن اس سلسلہ میں جو حوالے اب تک ہم نے پیش کئے ہیں، ان سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دل کی باتوں کا جاننا انسان کے بس کی بات نہیں نہ خدا اور اس کا رسول اس امر کی اجازت دیتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں کے حال ان کا جگر چیر کر معلوم کرو۔لیکن اب میں جو حدیث پیش کرنا چاہتا ہوں وہ صرف زبانی اقرار کے بعد تحقیق کی حدود بھی متعین کر دیتی ہے۔صحیح بخاری کی ایک حدیث میں اس اعتراض کا جواب آجاتا ہے جو مکرم محترم قاسمی صاحب نے اُٹھایا تھا کہ سورۃ نساء کی آیت مذکورہ کا حکم فتبینوا کے تابع ہے اور محض سرسری اقرار باللسان تک محدود ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اشارہ یہ ہے:۔مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيْحَتَنَا فَذَالِكَ المُسْلِمُ الَّذِى لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّة رَسُوْلِه - - (بخارى كتاب القبلة باب فضل استقبال القبلة) یہ بڑا اہم اور بنیادی ارشاد ہے۔اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ شخص جو مسنون عبادت میں ہمارے پیچھے چلے ، وہ گویا عبادات میں مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو گیا۔جس نے قبلے کو اپنایا۔وہ امت میں شامل ہو گیا اور جس نے ذبیحہ کھایا وہ معاشرت میں شامل ہو گیا۔گویا ان ظاہری اعمال کے لحاظ سے اُمت میں شامل ہو جانے والے کا خدا اور اس کے رسول نے ذمہ لیا ہے اور اس ذمہ سے اُس کو کوئی نکال نہیں سکتا۔ایک اور حدیث میں مسلمان کہلانے کا حق معین طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔اور اس حق سے کسی کو محروم نہیں کیا گیا۔اس حدیث میں اسلام کے دس حصے بیان کئے گئے ہیں، اس میں سے ایک حصہ شَهَادَةُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَهِيَ المِلة (كنز العمال جلد نمبر 1 صفحه 33) 112