امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 110 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 110

مگر ہم قطعی یہ نہیں چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے مسلمان ہونے کا ڈیکلریشن دیں۔غیر مسلم بے شک سمجھتے رہیں مگر اپنے عقیدے کا اعلان و اظہار کرنے کی اجازت ہمیں ملنی چاہئے۔ہمیں اس بارہ میں کوئی شبہ نہیں کہ فاضل عدالت کے ارکان ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے۔ہم اس خیال سے یہاں نہیں آئے کہ کوئی ہمیں مسلمان سمجھے یا اس بات کی سند عطا کرے۔علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ کوئی کافر لا الہ الا اللہ کہہ دے تو اس کا قتل جائز نہیں اور اگر مسلمان پھر بھی قتل کر دے تو قصاص واجب ہوگا۔(تفسیر قرطبی جزء 5صفحہ28-29) اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ سوائے اس کے کہ زبانی اقرار پر اعتبار کیا جائے اور کوئی دوسرا طریقہ اس کے عقیدہ کو جاننے کا نہیں۔یہی مضمون روح البیان اور المراغی میں ہے۔(روح البيان جزء 5 صفحه 263 تاليف 1908ء ، مـ ء، مراغی جزء 5 طبع اولی صفحه 287تا 290 بیروت) مولانا مودودی نے اپنی تفہیم میں تفصیلی بحث کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر پیش کر رہا ہو۔اس کے بارے میں سرسری طور پر کوئی فیصلہ نہ کرو۔بلکہ یہ لکھا کہ کا فر کو چھوڑ دینا اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ کسی مسلمان کو شبے میں قتل کر دیا جائے۔تفهيم القرآن جلد اوّل صفحه 384-385 زیر آیت سورة النساء:94) مولانا شیخ محمود الحسن لکھتے ہیں کہ ایک صحابی نے السلام علیکم کہنے کے باوجود ایک مسلمان کو مارڈالا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ جو خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اس کا انکار نہ کرو۔(ترجمه قرآن مجید شیخ محمود الحسن صفحه 122 حاشیه زیر آیت سورة النساء آیت 94) مودودی صاحب نے لکھا ہے کہ کسی شخص کے مومن یا غیر مومن ہونے کا تعلق دراصل خدا تعالیٰ سے ہے۔بندے تو صرف یہ دیکھ سکتے ہیں کون سرحد اسلام کے اندر ہے اور کون باہر ہے۔(تفہیمات جلد دوم صفحہ 142 تا 143 اگست 1951ءاچھرہ لاہور از مولانا ابوالاعلیٰ مودودی) ابوداؤد کی حدیث پیش کرتے ہوئے مودودی صاحب نے لکھا ہے کہ جو ارکان اسلام 110