امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 104
دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! بتائیے کہ زمانہ جاہلیت میں گناہوں سے بچنے کے لئے میں جو صدقہ و خیرات کرتا تھا، غلام آزاد کرتا تھا اور صلہ رحمی کیا کرتا تھا کیا مجھے اس کا ثواب ملے گا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ زمانہ کی تیری انہی نیکیوں کے طفیل تو تجھے اسلام لانے کی توفیق ملی ہے۔(صحیح البخاری کتاب الزكواة باب من تصدق في الشرك ثم اسلم) مصلحت عامہ کے اصول پر کسی ایک گروہ کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔اگر ایسا " کیا جائے تو وہ مصلحت عامہ نہیں ہوگی وہ مصلحت ” طبقہ مخصوصہ ہوگی۔یادر ہے کہ مصلحت عامہ اور مصلحت اکثریت مترادف نہیں ہیں جہاں تک مذہبی امور ومعاملات کے ساتھ مصالح عامہ کا تعلق ہے۔مصالح دنیوی پر مصالح مذہبی کو قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے کیونکہ مذہبی امور کا منبع اور سر چشمہ ایک عالم الغیب اور علیم وخبیر ذات ہے جس کی غیب الغیب پر نظر ہے اور کوئی مصلحت اس سے مخفی نہیں اگر دنیا کے امور میں سے رموز مصلحت خویش خسروال دانند ہے تو اعتقادی و مذہبی امور میں یہ بات خدائے علیم وخبیر کے حق میں کہیں زیادہ درست ہے۔اسی کی طرف اشارہ اس نص صریح میں ہے۔كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوْا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ - وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (البقرة:216) ترجمہ: ( مسلمانو) تم پر ( خدا کے رستے میں ) لڑنا فرض کر دیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لئے مضر ہو اور ( ان باتوں کو ) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔سو یہ آیت یہ اصول طے کرتی ہے کہ مصلحت کا حقیقی علم اللہ کی ذات کو ہے۔104