امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 5 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 5

شرعی عدالت میں اُٹھائے گئے نکات اور ہماری طرف سے کی گئی بحث تاریخ میں محفوظ رہنی چاہئے۔دوستوں کا مجھ سے یہ مطالبہ تھا کہ چونکہ یہ مقدمہ پیش کرنے اور بحث کرنے کی سعادت میرے حصہ میں آئی تھی اس لیے اس کو مرتب اور مدون کر کے محفوظ کرنا بھی میرا ہی فرض بنتا ہے اور مجھے ہی یہ ذمہ داری اُٹھانی چاہئے۔گو یہ کام مشکل اور محنت طلب تھا مگران دوستوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ کام اگر میرے لئے مشکل ہے تو کسی اور کے لئے مشکل تر ہو گا۔دوستوں کا اصرار بڑھتا رہا۔بعض دوستوں اور بزرگوں نے یہ کہہ کر بھی توجہ دلائی کہ ایک قرض ہے اور مجھے یہ قرض چکانا چاہئے۔فرض من پسند ہو اور قرض محبت کا ہو تو ادا ئیگی باعث راحت و مسرت ہوتی ہے اور توفیق میسر آجائے تو شکر اور حمد کے جذبات شوق اور ہمت کے لئے مہمیز بن جاتے ہیں۔سوخدا کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہوئے اسی کے مقدس نام کے ساتھ اس فرض کی ادائیگی کے لئے قلم اُٹھاتا ہوں کہ وہی ہے جو ہمیں وجود بخشا اور نشو و نمادیتا ہے، اسی کے چشمہ فیض سے نطق و گویائی و بیان کے چشمے پھوٹتے ہیں، وہی زبانوں کی گرہیں کھولتا اور قلم کو روانی عطا کرتا ہے۔وہی ہے جو ذہن کو سوچ اور سوچ کو جلاء بخشتا ہے۔وہی اظہار و بیان اور تحریر میں تاثیر اور چاشنی پیدا کرتا ہے۔وہی ہے جور استوں کو روشن کرتا اور لغزشوں سے محفوظ رکھتا ہے۔وہی ہے جو ہماری ناچیز کوششوں کو پذیرائی بخشتا اور قبول فرماتا ہے۔خدا کرے کہ یہ نا چیز کوشش قبول ہو اور نیک اثرات پیدا کرنے والی ہو۔آمین 5 مجیب الرحمن