امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 99
کر سکتا ہے۔مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ اسلامی حکومت کا ایک اصول یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو حکومت عطا کرے تو وہ نماز قائم کریں، زکوۃ دیں اور امر معروف کریں اور وہ بھلائیاں جن کو قرآن بھلائیاں کہتا ہے، ان کو پروان چڑھائیں۔کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ جسے چاہے اچھائی اور جسے چاہے برائی قرار دے۔(دستوری سفارشات اور ان پر تنقید و تبصره صفحه 153، 154 شعبه نشر و اشاعت جماعت اسلامی) علامہ رشید رضا نے لکھا ہے کہ مفادِ عامہ کے طور پر بنایا جانے والا کوئی قانون اللہ اور اس کے رسول کے فرمودات کے خلاف نہ ہو، لیکن جہاں تک عبادات اور اعتقادات کا تعلق ہے ولی امراس میں دخل نہیں دے سکتا۔(تفسیر "المنار" جزء خامس صفحه 181مطبوعه 1328ه) عبدالقادر عودہ نے لکھا ہے:۔” اولی الامر کی اطاعت خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کے ذیل میں آتی ہے، مگر اولی الامر کی اطاعت اسی وقت تک ہے جب تک وہ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے۔لیکن جب وہ روح اسلام سے باہر قدم رکھے تو اس کی اطاعت نہ کرو“۔یہ سوال عدالت کے سامنے نمایاں ہو کر ابھرا ہے کہ کیا جائز امور میں مصلحت وقت اور مفاد عامہ کی خاطر یا دفع شر کی خاطر تعزیر نافذ نہیں کی جاسکتی اور اس بارہ میں ایک رائے یہ دی گئی ہے کہ ایسے امور میں تعزیر نافذ کی جاسکتی ہے۔اس کے لئے ابن قیم کی کتاب اعلام الموقعین اور علامہ محمود شلتوت اور استاذ مصطفیٰ زرقا کی کتب کا حوالہ بھی دیا گیا۔سڈ ذریعہ کا اصول اس عدالت کے ایک فیصلہ میں بھی زیر بحث آیا ہے۔اس اصول کے بارہ میں کچھ مزید بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ سد ذریعہ کے بارہ میں قرآن شریف سے کوئی بنیاد فقہاء نے تلاش نہیں کی حالانکہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف میں اس کی واضح بنیاد میں موجود ہیں۔مندرجہ ذیل آیات قرآنی ملاحظہ ہوں۔99