امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 98 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 98

جہاں خیر وشر کے مفہوم میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، اس صورت میں قرآن وسنت سے فیصلہ لیا جائے گا۔مصلحت عامہ کی تعیین کے سلسلہ میں سورۃ بقرہ کی آیت 217 میں اللہ تعالیٰ نے یہ اصول قائم فرمایا ہے کہ ایک خیر کو تم بہتر سمجھتے ہو در آنحالیکہ وہ تمہارے لئے بری ہے۔یا ایک چیز کو اپنے لئے بری سمجھتے ہو جب کہ نتائج کے اعتبار سے وہ تمہارے لئے اچھی ہے۔اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے، حقیقی علم خدا کو حاصل ہے۔اس لئے جب خیر وشر میں تنازعہ پیدا ہو جائے تو لازمی بات ہے کہ وہ معاملہ خدائے حقیقی کے فرمودات یا اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹا یا جائے گا۔جہاں اصلاح بین الناس یا مصلحت عامہ کا سوال پیدا ہو، وہاں بھی یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ دراصل خیر ہے بھی یا نہیں۔جس کو ولی امر خیر سمجھ رہا ہے۔پس اذان مسلمانوں کی ہے نہ قادیانیوں کی بلکہ یہ تو شہادتین سے معنون ہے۔یہ اذان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔اس میں یہ نہیں دیکھا جانا چاہئے کہ کون اذان دے رہا ہے یا کون خدا کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے اس کے Content (نفس مضمون ) کو دیکھنا پڑیگا۔سورۃ مجادلہ کی آیت 10 کو پیش کر کے بتایا گیا کہ قرآن کریم نے حکم دیا ہے کہ گناہ اور زیادتی کی بات پر خفیہ مشورے اور سرگوشیاں نہ کیا کرو۔نیکی کے بارہ میں خدا خوفی سے مشورہ کیا کرو۔چنانچہ ان امور کو جب اولوالا مر پیش نظر رکھے گا تو اس کو پتہ لگ جائے گا کہ کون سی بات مصلحت عامہ میں ہے اور کون سی بات مصلحت عامہ میں نہیں ہے۔یہ بات بار بار واضح کی گئی کہ صدارتی آرڈینینس قرآن اور سنت کی روح کے خلاف ہے کیونکہ روح یہ ہے کہ توحید کی آواز جہاں سے بلند ہو رہی ہو، اس کا احترام کیا جائے۔اس کا روکنا اسلام کی روح کے سراسر خلاف ہے۔,, التشريع الجنائی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ولی امر کن حالات میں قانون وضع 98