امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 96 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 96

مصطفی البابی الحلمی ج2 صفحہ 293 مطبوعہ مصر 1378ھ ) البدائع والصنائع (البدائع والصنائع ج 7 صفحہ 63 مطبوعہ 1910 ء از امام علاؤالدین ابی بکر بن مسعود الکاسانی)، فقہ السنه ( فقه الستة ج2 صفحہ 589 مطبوعہ مصر 1969ء) ، فلسفة التشریع الاسلامی ( فلسفة التشریع الاسلامی صفحہ 173) ، کتاب الفقه ( كتاب الفقه على مذاهب الاربعۃ ج5 صفحہ 756 مطبوعہ 1979 ء از عبدالرحمن الخبریری) اور التشريع الجنائي ( التشريع الجنائی ج 1 صفحہ 173) میں اپنی جملہ تفصیلات کے ساتھ موجود ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تعزیر حد سے نہیں بڑھ سکتی۔ہر جرم کی تعزیر نہیں ہوسکتی۔تعزیر کے لئے افعال سینہ کا ہونا ضروری ہے اگر افعال حسنہ ہوں تو ان پر تعزیر نہیں ہو سکتی۔مفادِ عامہ کو بہانہ بنا کر کوئی اولی الامر سرد ملک میں شراب کو جائز یا گرم ملک میں روزوں کو معاف نہیں کر سکتا۔مفاد عامہ میں یہ بھی ضرور دیکھا جائے گا کہ کس قانون سے کون زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔(ضرر اور ضرار میں توازن قائم کیا جائے گا ) ان سب کتب میں قدر مشترک یہ ہے کہ تعزیر کے لئے ذنب یا فعل سیئہ کا ہونا ضروری ہے۔تعزیر کے بارہ میں جہاں تک اولی الامر کا تعلق ہے، اولی الامر قرآن وسنت کے احکام کے معاملے میں آزاد نہیں۔اولی الامر میں اور مجھ میں اگر اختلاف ہو تو گا تو پھر رُدُّوهُ إِلَی اللہ کے مطابق بات ہوگی۔آج کے دن اولی الامر میں اور مجھ میں اگر اختلاف ہو تو شرعی عدالت فیصلہ کرے۔یہ بنی ہی اس لئے ہے۔جب ایسی عدالت نہیں تھی تو چار طرح کے اولی الامر ہوتے تھے۔انبیاء، علماء، ولی الامر اور مواعظ حسنہ کرنے والے۔اس وقت یہ تھا کہ ادارہ کوئی نہیں تھا۔اور ولی امر ، خلافت راشدہ کے دور تک خود متقی تھے اور بعد میں ولی امر کو بتانے والے قاضی اور علماء تھے۔یہ بات واضح ہے کہ یقینی طور پر ہمیشہ ایسے اولی الامر موجود نہیں رہے کہ جو قرآن 96