امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 95 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 95

جو ہر ایسی جنابت (گناہ) پر مشروع ہے جس میں کوئی حد مقرر نہ ہو۔(المغنی لابن قدامه جزء ثامن صفحه 324 مطبوعه 1367ه از ابی محمد عبدالله بن احمد) صاحب نهاية المحتاج لکھتے ہیں کہ تعزیر ہر معصیت پر لگائی جائے گی۔(نهاية المحتاج جلد نمبر 8 صفحه 16فصل في التعزير) فقہ شافعی کے امام علامہ ابی اسحق ابراہیم بن علی شیرازی تعزیر کے متعلق لکھتے ہیں کہ جو ایسی معصیت کا مرتکب ہو جس میں کوئی حد اور کفارہ نہیں ( اس پر تعزیر ہوگی ) (المهذب الجزء الثاني صفحه 228) علامہ ابن الحمام الحنفی متوفی 861ھ کے نزدیک تعزیر حد سے نچلے درجہ کی سزا ہے اور اس کا مقصد افعال سیئہ سے روکنا ہے تا کہ وہ ایسے طبعی ملکہ کی صورت اختیار نہ کر لیں جس میں فحش پا یا جائے۔(شرح فتح القدیر الجزء الرابع صفحہ 212 مطبوعہ 1306ھ مصر از ابن الهمام الحنفی) مذہب حنفی کے ایک اور امام ابوالحسن الطرابلسی تعزیر کے تحت لکھتے ہیں کہ تعزیر وہ سزا ہے جو اصلاح کی خاطر گناہوں سے روکنے کے لئے ان امور میں دی جائے جن میں حد اور کفارہ مشروع نہیں۔اور سزا ہمیشہ فعل حرام یا ترک واجب یا ترک سنت یا مکروہ کام کے کرنے پر ہوتی ہے۔ابن قیم جوزیہ نے لکھا ہے کہ تمام علماء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ تعزیر ہر اس معصیت میں مشروع ہے جس میں حد نہ ہو۔(معين الحكام صفحه 194-195 طبع دوم از امام علاؤ الدین) علامہ ابوالحسن الماوردی متوفی 450 ھ تعزیر کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں کہ تعزیر ایسے گناہوں کی سزا ہے جن میں حدو دمشروع نہ ہوں۔(الاحكام السلطانيه صفحه 205 فصل 6 في التعزير مطبوع مصر 1327ھ از ابوالحسن علی بن محمد بن حبیب البصری) یہی مضمون مواہب الجلیل (مواہب الجلیل ج4 صفحہ 319) ،تبصرۃ الحکام فی اصول الافضيه ومناهج الاحكام للقاضی بریان ابو بن ابراهیم بن علی بن ابی قاسیم الطبعة الا خیره مطبع 95