امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 94 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 94

مذاہب غیر کو تبلیغ کی اجازت نہ دینا حق کا بھی منہ بند کر دینے کے مترادف ہے اور نقشہ یہ بنتا ہے کہ حق تو بولتا چلا جائے اور باطل چپ کر کے سنتا چلا جائے اور اس مصیبت میں گرفتار ہو کہ بولے تو جان سے ہاتھ دھوئے اور نہ بولے تو ایمان سے ہاتھ دھوئے۔یہ تصور قرآن کا ہر گز نہیں ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی سنت کے خلاف ہے۔عالمی پیمانے پر اسلام کی تبلیغ اگر اسی اصول پر ہو تو تبلیغ کا دروازہ قطعاً بند ہو جائے گا۔تعزیر تعزیر کے موضوع کے تحت ہم نے مندرجہ ذیل امور پر بحث کی ہے۔1۔تعزیر کی فقہی تعریف کیا ہے؟ 2 تعزیر کے بارہ میں اقتدار اعلیٰ کی حدود کیا ہے؟ 3۔کیا ایسے افعال کے بارے میں جو معصیت نہیں ہیں ، کوئی تعزیر مقرر کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ 4۔کیا ایسے افعال جو معصیت نہ ہوں بلکہ مندوب ہوں ، ان پر تعزیر عائد کی جاسکتی ہے؟ 5۔کیا ولی امرکو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال قرار دیدے؟ 6- کیا اولی الامر خیر وشر کی نئی بنیاد میں قرآن وسنت کے خلاف قائم کر سکتا ہے؟ تعزیر کی تعریف کے موضوع پر چاروں مسالک فقہ کے حوالے اس جگہ پیش کئے جاتے ہیں۔فقہ حنبلی کے امام علامہ شرف الدین موسی (968ھ ) تعزیر کی تعریف کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ یہ وہ تادیب ہے جو ہر ایسی معصیت میں واجب ہے جس میں حد ہو نہ کفارہ۔(الاقناء في فقه الامام احمد بن حنبل تاليف قاضی دمشق علامه شرف الدين موسى الجزء الرابع صفحه 268 مطبع المصرية الازهر زير عنوان كتاب الحدود) ابن قدامہ (متوفی 620 ہجری) تعزیر کی تعریف میں بیان کرتے ہیں کہ یہ وہ عقوبت ہے 94