امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 4 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 4

مقرر کی گئی تھی اور بعض القابات کا استعمال بھی احمدیوں کے لئے قابل تعزیر بنا دیا گیا تھا۔اس قانون کے ذریعے احمدیوں کی مذہبی آزادی پر کاری ضرب لگائی گئی تھی اور احمدیوں کیلئے روز مرہ کے سماجی تعلقات اور مذہبی فرائض کی بجا آوری قابل تعزیر ہو کر رہ گئی تھی۔قانون کی زد براہِ راست ہر احمدی پر پڑتی تھی۔وفاقی شرعی عدالت میں کوئی بھی شہری کسی بھی قانون کو اس بنیاد پر چیلنج کر سکتا تھا کہ مذکورہ قانون قرآن و سنت سے متصادم ہے۔اور یہ پابندیاں جواس قانون کے تحت عائد کی گئیں وہ واضح طور پر قرآن وسنت سے معارض تھیں۔چنانچہ انفرادی حیثیت سے ہائی کورٹ میں اس قانون کو آئین کے تحت بنیادی حقوق سے متصادم ہونے کی بناء پر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس شیخ آفتاب حسین قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے ایک Division Bench میں یہ فیصلہ دے چکے تھے کہ آئین کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم ٹھہرائے جانے کے باوجود احمدیوں کے لئے اسلامی شعائر کو اپنانے اور اختیار کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ شعائر احمدیوں کے بھی اتنے ہی شعائر ہیں۔ان حالات میں راقم الحروف نے مکرم مبشر لطیف احمد صاحب ایڈووکیٹ ، مکرم مرز انصیر احمد صاحب ایڈووکیٹ اور مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے ساتھ مل کر وفاقی شرعی عدالت میں آرڈینینس Xxx کو اس بنیاد پر کالعدم قرار دینے کی درخواست گزاری کہ یہ قانون قرآن وسنت کے منافی ہے۔اس درخواست کی مفصل سماعت ہوئی اور دورانِ سماعت قرآن وسنت سے جو استدلال کیا گیا وہ علمی اور تاریخی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔عدالت کا فیصلہ تو قانونی نظائر کی کتب میں شائع شدہ موجود ہے، مگر ہماری طرف سے کی گئی بحث اور 14 روزہ عدالتی کارروائی کا کوئی ریکارڈ محفوظ نہیں۔بہت سے دوستوں کا اصرار تھا کہ وفاقی 4