امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 313 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 313

کی ظالمانہ حکومت سے نجات پانے کے بعد مسلمان انگریزوں کی عملداری میں مذہبی آزادی اور سکھ کا سانس لے رہے تھے محض یہ بات کہ مرزا صاحب نے ایک غیر مسلم حکومت کی تعریف کی محل اعتراض نہیں ٹھہر سکتی۔کیونکہ انصاف پسند حکومتوں کی تعریف سنت انبیاء میں سے ہے خود ہمارے آ قا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا تو یہی فرمایا کہ وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔صحابہ حبشہ تشریف لے گئے۔وہاں کی عیسائی حکومت میں رہے اس کی اطاعت کرتے رہے۔اس کے خلاف کوئی بغاوت نہ کی۔بلکہ جب ملک میں بغاوت ہوئی تو صحابہ شاہ حبشہ کی فتح کے لئے رو رو کر دعائیں کرتے رہے۔پس انگریزی سلطنت کی انصاف پسندی کی تعریف شریعت کے مطابق تھی اور عین واجب تھی۔مگر اسی سلطنت کے عدل گستری کی تعریف کے ساتھ مرزا صاحب اس کے مذہبی اعتقادات کے لئے ساری عمر ایک تیغ برہنہ رہے اور رسول خدا کے مقابلے میں عیسائی پادریوں کی ایسی سرکوبی کی کہ جو اپنی مثال آپ ہے۔مرزا صاحب کی ان تحریرات کو اپنے سیاق و سباق سے کاٹ کر ان سے خود تراشیدہ مفہوم اور نتائج اخذ کرنا عدالت کا منصب نہ تھا۔لہذا یہ حصہ بھی فیصلے سے حذف کئے جانے کے لائق ہے۔اس بارے میں سینکڑوں صفحات پر پھیلا ہوا لٹریچر اہل تحقیق کے لئے ہر وقت ایک کھلی دعوت فکر ہے اور ایسا واضح روشن اور صاف ہے کہ جماعت احمدیہ کے معاندین ان واضح حقائق کی تاب نہ لا کر بالآ خر جماعت احمدیہ کی تبلیغ پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔مگر عدالت کے لئے یہ مناسب نہ تھا کہ وہ ایک فریق بن کر دوسرے فریق کے مخالفانہ خیالات کی ترویج و اشاعت کے لئے اپنے فیصلے کا دامن کھول دیتی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک سے زائد مرتبہ ایک بات کو دہرایا کہ مرزا صاحب کے بعض رشتہ دار ان کے مخالف تھے اور ان کو اپنے دعوئی میں سچا نہ مانتے تھے اور جھوٹا سمجھتے تھے اور 313