امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 184 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 184

اعلائے کلمہ اسلام میں کوشش کریں ،مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں، دین متین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلائیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں۔یہی جہاد ہے جب تک کہ خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر نہ کرے۔( مکتوب حضرت مسیح موعود بنام میر ناصر نواب صاحب مندرجہ رساله در ود شریف صفحہ 113 مرتبہ حضرت محمد اسماعیل حلالپوری) حرف آخر دوران بحث فاضل وکیل سرکار اور مشیران عدالت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ولی امر ہر طرح کی قانون سازی کر سکتا ہے۔اس بحث میں حاکم وقت اور امام وقت کا فرق بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا جو ایک بہت اہم اور بنیادی فرق ہے۔اولوالامر کا حقیقی مفہوم اور معنی سمجھنے میں بھی غلطی کی گئی ہے۔در اصل اولوالامر خود ایک اضافی اصطلاح Relativetem ہے جو حوالہ جات پیش کئے گئے ہیں ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایک مہم کے لئے مقرر کئے گئے کمانڈر کو بھی اولوالامر کہتے ہیں کسی مخصوص علاقہ اور مخصوص حالات کے انتظامی سربراہ کو بھی اولی الامر کہا جاتا ہے اور مملکت کے سر براہ کو بھی اولی الامر کہا جاسکتا ہے۔یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ ہر اولوالامر امام وقت نہیں ہوتا اور نہ وہ پوری امت کے لئے اولوالامر ہوتا ہے۔اس بارہ میں امام راغب کا قول اس کو سمجھنے میں محمد ہوسکتا ہے۔امام راغب فرماتے ہیں:۔’ اولوالامرجن کی وجہ سے لوگ رکھتے ہیں چار قسم کے ہیں :۔1۔انبیاء۔اور ان کا حکم عام اور خاص لوگوں کے ظاہر و باطن پر ہے اور 2 والی۔یعنی بادشاہ۔اور ان کا حکم سب کے ظاہر پر ہے باطن پر نہیں اور 3۔اہل حکمت یا فلسفی۔جن کا حکم خاص لوگوں کے باطن پر ہے اور -4 واعظ۔اور ان کا حکم عام لوگوں کے باطن پر ہے ظاہر پر نہیں۔(مفردات راغب صفحه 25 زیر لفظ (امر) 184