امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 93 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 93

کیا بلکہ اس کی حفاظت بھی کی ہے۔کسی کے عقیدے کو جبر سے بدلا نہیں جاسکتا۔اس کے علاوہ خود صاحب عقیدہ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ عقیدے کی حفاظت کے لئے جدوجہد کرے۔اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ دین اور عقیدے کی آزادی حاصل کریں اور اپنی مذہبی رسومات اپنے طریق پر انجام دیں۔یہودیوں کو بھی اسلامی ریاست میں اپنے مذہب کی سچائی کی تائید میں لکھنے اور اسے اسلام کے مقابل پر برتر مذہب ثابت کرنے کی بھی اجازت تھی۔(اسلام کا فوجداری قانون تالیف عبدالقادر عوده ترجمه ساجد الرحمن کاندھلوی صفحه35 تا38) اسلام کوئی شیشے کا گھر نہیں اسلام کی صداقت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔اسلام کسی کو صداقت کے پیش کرنے سے روکتا نہیں بلکہ دعوت دیتا ہے کہ دلیل لاؤ تا کہ وہ اپنی صداقت کو ثابت کر سکے۔جہاں تک تبلیغ کے حق کا سوال ہے اگر وسیع تر پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ پابندی خود مصلحت عامہ کے اصول کے بھی خلاف ہے کیونکہ تبلیغ پر پابندی سے خود اسلام کے وسیع تر مفادات پر زد پڑتی ہے۔قرآنی نظریہ تو یہ ہے کہ باطل کو کھلی چھٹی ہے کہ اپنا زور لگا لے۔اسلام کوئی بیت عنکبوت نہیں جسے باطل سے کچھ خوف ہو، لیکن تبلیغ پر پابندی سے اسلام کا یہ نقشہ اُبھرتا ہے کہ ہم تو تبلیغ کریں گے کیونکہ ہمارے پاس حق ہے لیکن دیگر مذاہب کو اجازت نہیں دیں گے کیونکہ وہ باطل ہیں گو یا دیگر مذاہب کے ہاتھ پاؤں باندھ کر، جکڑ کر ستون کے ساتھ باندھ کر، بے دست و پا کر کے ایک UnEwenFight کا نقشہ پیش کیا جارہا ہے جو کسی طرح بھی اسلام کے بارہ میں کوئی دلکش تصویر پیش نہیں کرتا۔قرآن تو یہ کہتا ہے کہ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الباطل کر حق کی روشنی کے سامنے باطل کی تار یکی ٹھہر ہی نہیں سکتی۔مگر غیر مسلم کی تبلیغ بند کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ گویا باطل کے آنے سے خدانخواستہ ایمان بھی ڈول جائے گا۔93