امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 63 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 63

میں مسلمانوں کو کچھ قوت حاصل ہوئی اور بنو نضیر کی جلا وطنی کے وقت ان سے اپنے بچے جبراً واپس لینے کا معمولی ساخیال مسلمانوں کے دل میں پیدا ہوا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے لا اكراه فی الدین کی آیت نازل فرمائی۔(تفسیر المنار جز 11 صفحه 483 زیر آیت لااکراه فی الدین) ہم نے اکراہ کے بارہ میں فقہاء کی یہ فقہی تعریف پیش کی ہے کہ محض دھمکی دینا بھی اکراہ میں شامل ہے اور اکراہ سے مراد کسی کو ایسے کام پر مجبور کرنا ہے جو کسی کی مرضی کے خلاف ہو۔(معين الحكام علامه ابوالحسن حنفی صفحه 311 مطبوعه مصر) دین جو سراسر خیر ہے اس میں تو اکراہ کا تصور ہی نہیں ہوسکتا کیونکہ اکراہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو کسی ایسی بات پر مجبور کرنا جس کو وہ خیر نہیں سمجھتا۔لا اکراہ کی تفاسیر کے ضمن میں سید قطب شہید لکھتے ہیں کہ :۔مذہب کی آزادی انسان کا بنیادی حق ہے۔جو شخص یہ حق چھینتا ہے وہ اس سے گویا اس کی انسانیت چھینتا ہے۔(في ظلال القرآن الجزاء الثالث صفحه 27 از سید قطب شهید) اکراہ کا مسئلہ دین سے زیادہ سیاست سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ ایمان تو دلیل اور برہان سے پیدا ہوتا ہے کسی قسم کے اکراہ سے پیدا نہیں ہوتا۔احکام قرآنی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ جہاد کی اجازت بھی فتنہ کو مٹانے اور جبر و اکراہ کو روکنے کے لئے دی گئی ہے۔غور کیا جائے تو مذہب کی آزادی کے چار پہلو ہیں :۔1۔اس میں داخل کرنے پر جبر نہ ہو۔2۔اگر کوئی داخل ہونا چاہے تو اسے جبرانہ روکا جائے۔۔اگر کوئی کسی مذہب پر رہنا چاہے تو اسے زبردستی نکالا نہ جائے۔(جیسا کہ ہمیں نکالا گیا ہے) 4۔جو مذہب میں رہنا نہ چاہتا ہو تو اسے زبر دستی روکا نہ جائے۔63