امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 56
کی اطاعت واجب نہیں ہے“۔اسلام کا قانون فوجداری صفحه319318 - بحواله اعلام الموقعين جلد 1صفحه 51 ، تفسير المنار پھر لکھتے ہیں :۔جلد 5 صفحه 180) تمام فقہائے اُمت اور مجتہدین ملت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اولوالامر کی اطاعت صرف انہی امور میں واجب ہے جن کا خود اللہ سبحانہ نے حکم دیا ہے اور خلاف شریعت امور میں اولوالامر کی اطاعت قطعا لازم نہیں“۔اسلام کا قانون فوجداری صفحه 320 بحواله الشرح الكبير جلد9صفحه 341 المهذب جلد 2 صفحه 189 حاشیه ابن عابدین جلد 3 صفحه 429) اس بارہ میں جب ہم تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات اسلامی نظام کے ایک بنیادی قاعدے کے طور پر سامنے آتی ہے کہ اولی الامر کی اطاعت اس وقت تک واجب ہے جب تک وہ قرآن وسنت سے متصادم نہ ہو۔چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے اقوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔علامہ نسفی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔1۔امراء کی اطاعت اس وقت واجب ہے جب وہ حق سے موافقت کریں لیکن جب وہ حق کی مخالفت کریں پھر ان کی اطاعت جائز نہیں“۔(تفسير النسفى المسمى بمدارك التنزيل وحقائق التاويل تاليف علامه عبدالله بن احمد بن محمود النسفى المجلد الاوّل صفحه 327 ) 2۔”اگر تمہارا اور اولوالامر کا امور دین میں سے کسی امر کے بارہ میں جھگڑا ہو تو کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف رجوع کرو۔(تفسير روح البيان تاليف علامه الشيخ اسماعيل حقى البروسوى المجلد الثاني صفحه 227) 3۔” اولوالامر سے مراد مسلمانوں کے اہل حل و عقد اور امراء و حکام ہیں کہ جب وہ کسی معاملے پر متفق ہو جائیں تو ان کی اطاعت واجب ہے بشرطیکہ وہ اللہ کے حکم اور سنت 56