امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 319 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 319

عدالت کا نجی ریکارڈ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کل کلاں آپ ہماری نوٹ بگوں کی نقل بھی مانگیں گے، تو وہ تو نہیں دی جاسکتی۔حالانکہ میں تو اپنی بحث کی ٹیپ مانگ رہا تھا، عدالت کی باہمی مشاورت کی نہیں۔اسی طرح ہماری تیسری درخواست یعنی تفصیلی فیصلہ کے غیر متعلقہ حصے حذف کرنے کی درخواست بھی خارج کر دی گئی۔جب تینوں درخواستیں خارج کرنے کا حکم سنادیا گیا تو میں نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ جناب میں اپنی اپیل واپس لیتا ہوں۔چیف جسٹس حیرت سے چونک اٹھے اور مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری اور اہم فیصلہ ہے۔آپ کی پوری جماعت کے حقوق کا معاملہ ہے۔آپ سوچ لیں ، مشورہ کر لیں وغیرہ۔میں نے یہی عرض کیا کہ میں اپنی اپیل واپس لیتا ہوں۔میں اپنی دادرسی آئینی دائرہ میں حاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔تو چیف جسٹس نے کہا بہت اچھا۔آپ کی اپیل بوجہ دستبرداری خارج کر دی جائے گی۔میں نے عرض کیا: جناب والا میری تین درخواستیں عدالت نے خارج کی ہیں، میں نے واپس نہیں لیں۔فیصلہ یوں ہونا چاہئے کہ ” درخواستیں خارج کی گئیں ، اپیل واپس لی گئی۔چیف جسٹس نے کہا درست ہے، ایسا ہی ہے۔درخواستیں خارج کی گئیں ، اپیل واپس لی گئی ، اور یوں شرعی عدالت میں اپنے قانونی حقوق حاصل کرنے کی ہماری جد و جہد اختتام پذیر ہوئی۔چنانچہ ہماری آئین کے تحت دادرسی والا معاملہ ظہیر الدین بنام سرکار“ کے عنوان سے سپریم کورٹ میں زیر غور آیا جس میں 18 پیلوں کا ایک ساتھ فیصلہ کیا گیا جو اسی عنوان سے قانونی نظائر کی کتب میں شائع شدہ ہے۔(1718 SCMR 1993) یہ فیصلہ بھی اختلافی فیصلہ تھا جس میں بینچ کے سربراہ جسٹس شفیع الرحمن نے اختلافی فیصلہ رقم فرمایا تھا۔اس فیصلہ پر 319