امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 317
{9} اپیل کی سماعت برسوں بعد جب سپریم کورٹ کے شریعت اپیل بینچ میں سماعت کیلئے مقدمہ لسٹ میں شامل ہوا تو اس وقت اپیل پہینچ میں مولانا تقی عثمانی اور پیر کرم شاہ آف بھیرہ شامل تھے۔یہ دونوں حضرات ordinance کے نفاذ پر اپنی رائے کا اظہار ordinance کے حق میں کر چکے تھے اور اس کو جاری کروانے کا سہرا بھی اپنے سر باندھ چکے تھے۔مولانا تقی عثمانی نے تو روزنامہ جنگ میں مضمون لکھا تھا اور پیر کرم شاہ صاحب نے ایک ٹی وی پروگرام میں ordinance کی حمائت کی تھی اور خود اس کو جاری کروانے کا کریڈٹ لے چکے تھے۔قانونی نظائر اس بات پر بڑی واضح ہیں کہ بینچ میں ایک حج بھی تعصب رکھتا ہو یا اس کی غیر جانب داری متنازع ہو یا پختہ رائے قائم کر چکنے کے باعث زیر غور معاملہ میں بند ذہن رکھتا ہو تو یہ طے کرنا مشکل ہے کہ وہ فیصلے پر کس حد تک اثر انداز ہوگا۔اس لئے ایسے حج کا سماعت سے الگ ہو جانا ہی مناسب ہوتا ہے۔چنانچہ ہم نے الگ سے ایک درخواست سپریم کورٹ میں گزاری کہ ہماری اپیل کی سماعت میں ان دو حضرات کو بینچ میں شامل ہونا قرین انصاف نہ ہوگا۔جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں تفصیلی فیصلے میں ایسی باتیں درج تھیں جن میں ہماری بحث کو 317