امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 311
نذیر احمد ، سرسید احمد خاں، مولانا ظفر علی خان صاحب غرضیکہ عالم اسلام کے ہر طبقہ فکر کے علاوہ مجہتدین اور رائے عامہ کے لیڈ ر اس بارے میں یک زبان تھے کہ ہندوستان دار السلام ہے اور اس میں جہاد فرض نہیں۔یہ کسی اکا دُکا فتوے کا معاملہ نہ تھا اور جن بزرگوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ کسی مسجد کے عام ملاں نہ تھے۔اُن کا قد وقامت عالم اسلام میں بہت بلند تھا۔جوفتو کی انہوں نے دیا اور جن حالات میں دیا ان کا یکجائی طور پر مطالعہ کیا جائے تو صورت یہی ابھرتی ہے کہ اُن کے نزدیک ہندوستان میں جہاد اس لئے فرض نہ تھا کہ انگریزی حکومت مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہ کرتی تھی۔اور ہندوستان کے ہر طبقے کو اپنے مذہب پر عمل کی پوری آزادی حاصل تھی اور یہ بات غلط بھی نہ تھی۔حضرت مرزا صاحب نے جہاد کے بارے میں جو کچھ لکھا وہ صرف یہ تھا کہ جہاد کی شرائط ان کے زمانہ میں سرزمین ہند میں مفقود تھیں۔اس لئے یہی فتویٰ دیا کہ اس وقت جہاد جائز نہیں۔چنانچہ آپ نے لکھا۔ان وجوه الجهاد معدومة فى هذا الزمن وهذه البلاد کہ اس زمانے میں اس ملک میں جہاد کے اسباب موجود نہیں۔(روحانی خزائن جلد 17 صفحه 82- ضمیمه تحفه گولڑویه صفحه30) اور اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:۔اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانے کا جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمہ اسلام میں کوشش کریں۔مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔دین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلائیں۔یہی جہاد ہے جب تک کہ خدا کوئی دوسری صورت دنیا میں نہ ظاہر کر دے۔جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں جہاد تین پہلوؤں سے فرض ہے۔جہاں مرزا صاحب نے انگریزوں کے خلاف قتال کو ناجائز قرار دیا وہاں مذہبی سطح پر ایک بھر پور جہاد مرزا صاحب نے 311